کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 533
﴿فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْئٍ فَرُدُّوہُ إِلَی ا للّٰه وَالرَّسُوْلِ إِنْ کُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ ذٰلِکَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا﴾ [النسآء:۵۹] [’’پھر اگر کسی چیز میں اختلاف کرو تو اسے لوٹاؤ اللہ تعالیٰ کی طرف اور رسول کی طرف اگر تمہیں اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان ہے یہ بہت بہتر ہے اور باعتبار انجام کے بہت اچھا ہے۔ ‘‘] اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَلَا یَزَالُوْنَ مُخْتَلِفِیْنَ إِلاَّ مَنْ رَّحِمَ رَبُّکَ﴾الآیۃ [ہود:۱۱۸۔۱۱۹] [’’ اور وہ اختلاف کرنے والے ہی رہیں گے سوائے ان کے جن پر آپ کا رب رحم فرمائے۔‘‘] نیز اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ﴿وَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِیْہِ مِنْ شَیْئٍ فَحُکْمُہٗ إِلَی اللّٰہِ﴾ [الشورٰی:۱۰] [’’ اور جس جس چیز میں تمہارا اختلاف ہو اس کا فیصلہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف ہے۔‘‘] نیز اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ﴿اِتَّبِعُوْا مَآ أُنْزِلَ إِلَیْکُمْ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَلَا تَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِہٖ أَوْلِیَآئَ قَلِیْلًا مَّا تَذَکَّرُوْنَo﴾ [الاعراف:۳] [’’تم لوگ اس کی پیروی کرو جو تمہارے رب کی طرف سے آئی ہے اور اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر دوسرے رفیقوں کی پیروی مت کرو تم لوگ بہت ہی کم نصیحت مانتے ہو۔‘‘] رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (( اَلْحَلَالُ بَیِّنٌ وَالْحَرَامُ بَیِّنٌ ، وَبَیْنَھُمَا مُشْتَبِھَاتٌ ، فَمَنِ اتَّقٰی الشُّبُھَاتِ فَقَدِ اسْتَبْرَأَ لِدِیْنِہٖ وَعِرْضِہٖ))[1] [’’حلال ظاہر ہے اور حرام بھی ظاہر ہے اور ان دونوں کے درمیان کچھ مشتبہ چیزیں ہیں جن کو اکثر لوگ نہیں جانتے جو شک والی چیزوں سے بچا اس نے اپنے دین اور عزت کو بچا لیا۔‘‘] نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (( لَوْ کَانَ مُوْسٰی حَیًّا فَاتَّبَعْتُمُوْہُ وَتَرَکْتُمُوْنِیْ لَضَلَلْتُمْ عَنْ سَوَائِ السَّبِیْلِ)) [2] [1] بخاری/کتاب الایمان/باب فضل من استبرأ لدینہ۔ [2] مشکوٰۃ/کتاب الایمان/باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ۔