کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 532
چاہیے بوجہ ملکیت اور قرض دے کر زمین رہن لینے والے کو سود لینے کا حق نہیں ۔ آپ کی بات راہن اگر واقعی تنگ دست ہے تو اسے نفع .....الخ‘‘ کا تقاضا ہے کہ اگر کوئی سو پچاس ایکڑ کا مالک ہے اور زمین کے علاوہ کروڑوں کا اس کا کاروبار ہے تو اس کو اس کی زمین کے نفع سے کچھ نہیں ملنا چاہیے بلکہ اس سے زمین ہی لے لینا چاہیے کیونکہ وہ مفلس تنگ دست نہیں ، زمین کے بغیر ہی کروڑ پتی ہے آیا اس فکر کی کتاب و سنت میں کوئی دلیل ہے؟ کیا آپ ایسی کوئی دلیل ذکر فرمائیں گے؟ آپ فرماتے ہیں ’’ ایک طرف آپ لکھتے ہیں کہ مرہونہ زمین سے فائدہ اُٹھانا درست ہے بشرطیکہ وہ سود نہ بنے آگے چل کرمذکورہ حدیثوں کو جانور پر بند کر رہے ہیں ‘‘ تو جناب محترم میری ان دونوں باتوں میں کوئی منافاۃ و تعارض نہیں کیونکہ یہ حدیثیں ہیں ہی جانور کے متعلق۔ ایسا نہیں کہ حدیثیں تو عام ہیں جانور اور زمین دونوں کو شامل ہیں تو یہ فقیر الی اللہ الغنی از خود انہیں جانو رپر بند کر رہا ہے ۔ آپ کا یہ فہم درست نہیں ۔ آپ فرماتے ہیں ’’ ایک المیہ یہ ہے کہ ایک ہی لائن کے مختلف عالم ایک ہی مسئلے کو کوئی جائز کہتا ہے کوئی ناجائز کوئی حلال کوئی حرام….....کیا ایسا ممکن نہیں کہ کم از کم اہل حدیث تو ایک بورڈ یا کمیٹی بنائیں جو ایسے جواب دے متفقہ۔‘‘ دیکھئے کسی چیز کے جائز و ناجائز اور حلال و حرام میں اختلاف صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ، تابعین عظام اور ائمہ مجتہدین کے درمیان بھی موجود تھا اور وہ سب ایک ہی لائن کے متعدد علماء اور فقہاء تھے تو کیا آپ ان کے متعلق بھی یہی فرمائیں گے ’’ ایک المیہ یہ ہے کہ ایک لائن کے .....الخ‘‘ اس المیے کے حل کی خاطر آپ کے ذہن میں ایک بورڈ یا کمیٹی کا خاکہ ہے جو متفقہ فیصلہ صادر فرمائے تو محترم غور فرمائیں اس مجوزہ بورڈ یا کمیٹی کے ارکان بھی تو عالم ہی ہوں گے ان کا باہمی اختلاف ہو جائے تو المیہ جوں کا توں رہا ختم تو نہ ہوا۔ زندہ مثال دیکھ سکتے ہیں سعودیہ والوں نے آپ کے تجویز کردہ بورڈ یا کمیٹی کو ’’اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلمیۃ والافتاء‘‘ کے نام سے بنا رکھا ہے اس کمیٹی کے فتاوی چھپ رہے ہیں کوئی بیس کے قریب جلدیں چھپ چکی ہیں اس کا مطالعہ فرمائیں بہت سے مسائل میں اس کمیٹی یا بورڈ کے ارکان میں اختلاف ہو جاتا ہے کوئی جائز کہتا ہے کوئی ناجائز اور کوئی حلال کہتا ہے کوئی حرام۔ تو اس اختلاف والے المیے کا حل یہ بورڈ اور کمیٹیاں نہیں اس کا حل فقط وہی ہے جو کتاب و سنت میں بیان ہوا ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: