کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 531
تسلیم کرنے سے ضرور شرح صدر ہو جانا چاہیے کہ جانور والی صورت اور زمین والی صورت دونوں میں فرق ہے۔ (۱۰).....آپ اپنے پہلے مکتوب میں لکھتے ہیں ’’ مشکاۃ شریف میں حدیث ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کو قرضہ ادا کیا اور کچھ زیادہ دیا تو کیا وہ سود تھا؟ ‘‘ اس فقیر الی اللہ الغنی نے جواب دیا:’’ نہیں !یہ سود نہیں تھا‘‘ ا س پر آپ اپنے دوسرے مکتوب میں لکھتے ہیں ’’ ٹھیک ہے یہ سود نہیں تھا مگر اس سے یہ تو نکلتا ہے مرتہن کے حقوق کا خیال رکھنا چاہیے .....الخ‘‘ غور فرمائیں آیا وہ صحابی رضی اللہ عنہ مرتہن تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس صورت میں راہن تھے؟ مرتہن نے قرضہ دیا اور قرضہ لینے والے کی زمین اپنے پاس بطورِ رہن رکھ لی اور اس قرضہ لینے والے کو اس کی اپنی ہی مملوکہ زمین کے منافع سے محروم کر دیاجبکہ یہ بغیر زمین رہن لیے بھی کوئی خسارے میں نہیں تھا مالدار آدمی ہے۔ کیا سود لیے دیے بغیر مرتہن کے حقوق کا خیال نہیں رہتا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قرضہ دینے والے صحابی کو جو کچھ زیادہ دیا تھا وہ اس صحابی کا حق نہیں تھا لہٰذا س حدیث سے جناب کا مرتہن کے حقوق کے خیال رکھنے کو نکالنا عجیب و غریب ہے جبکہ مقروض راہن کے حقوق کا کوئی خیال نہیں کہ وہ بے چارہ غریب مقروض ہے پھر زمین رہن رکھ کر اس کی آمدنی سے بھی محروم ہے۔ فبا للّٰہ ا لعجب۔ (۱۱).....آپ نے اپنے پہلے مکتوب میں سوال کیا ’’ یہ کاروبار کی ایک شکل ہے ایک آدمی کاشت جیسا مشکل کام نہیں کر سکتا وہ زمین پر قرضہ لے کر دوسرا کاروبار کر رہا ہے جو زمین سے زیادہ نفع بخش ہے.....الخ‘‘ اس فقیر الی اللہ الغنی نے جواب دیا’’ کاروبار کریں البتہ خیال رکھیں کہ یہ کاروبار شرعاً جائز ہے یا ناجائز؟ اگر جائز و حلال ہے تو وہ کاروبار کر لیں اگر وہ حرام اور ناجائز ہے تو کاروبار نہ کریں ۔ کسی شے کا کاروبار ہونا یا مشکل ہونا اس کے جائز و حلال ہونے کی دلیل نہیں ‘‘ ( اور نہ ہی حرام اور ناجائز ہونے کی دلیل ہے) اس پر آپ لکھتے ہیں ’’ میرے علم میں اس وقت کوئی کاروبار نہیں ہے ، جھوٹ ،فریب ، ملاوٹ ، بے ایمانی عام ہے میرا تجربہ ہے۔‘‘آپ ہی غور فرمالیں آپ کی اس بات کا کتاب وسنت کو شرح صدر کے ساتھ سمجھنے کے ساتھ کو ئی ربط و تعلق ہے پھر میرے جواب کے ساتھ اس کی کیا مناسبت ہے؟ آپ اپنے دوسرے مکتوب میں لکھتے ہیں ’’ یہ مسئلہ نص میں تو موجود نہیں اس کو قیاس ہی کیا جائے گا کسی ملتے جلتے پر۔ میرا ذہن اس طرف بھی جاتا ہے راہن اگر واقعی مفلس تنگ دست ہے تواسے نفع سے کچھ دینا چاہیے اور اگر وہ زمین سے زیادہ نفع بخش کاروبار کر رہا ہے تو کسی اور حقدار کو دے دینا بہتر ہے۔‘‘ تو محترم! بات تنگ دست اورفراخ دست کی نہیں بات تو ہے کہ زمین کے مالک کو اس کی زمین کا نفع ملنا