کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 530
یا عام ہیں ؟‘‘ یہ تھا جناب کا سوال جو آپ نے اپنے پہلے مکتوب میں پیش فرمایا جس کا جواب اس فقیر الی اللہ الغنی نے لکھا’’ سواری اور دودھ والے جانور پر بند ہیں ‘‘ اس کے بعد آپ اپنے دوسرے مکتوب میں لکھتے ہیں ’’ اپنی کتاب میں انتفاع بالرہن والی حدیثیں عام لکھ چکے ہیں اب اسے جانور پر بند کر رہے ہیں بند کرنے کی کوئی دلیل اس کی ناسخ کیا ہے…الخ؟ آپ پر لازم تھا کہ میری کتاب سے وہ عبارت پیش کرتے جس میں انتفاع بالرہن والی حدیثوں کو عام لکھا گیا ہے صرف اتنی بات لکھی گئی ہے کہ ’’سواری اور لویری پر خرچہ کے عوض نفع تو نص میں جائز ہے …الخ‘‘ جو اس بات کی دلیل ہے کہ حدیث میں سواری اور دودھ والے جانو رپر بند ہیں لہٰذامیری کتاب سے ان حدیثوں کے سواری اور دودھ والے جانور پر بند نہ ہونے اور عام ہونے پر دلالت کرنے والی عبارت پیش کرنا ابھی تک آپ کے ذمہ ہے ہمت فرمائیں اور وہ عبارت پیش کریں کیونکہ آپ کا مقصد کج بحثی نہیں شرح صدر ہے۔ ’’ناسخ کیا ہے‘‘ والی آپ کی بات بالکل ہی بے تکی ہے ۔ ذرا غور فرمائیں سمجھ آ جائے گی ۔ ان شاء اللہ تعالیٰ آپ لکھتے ہیں :’’ جب اصل زر سے علاوہ خرچہ کے عوض نفع جائز ہے جانور سے تو یہ قانون زمین پر کیوں نہیں لگتا کیا زمین خود بخود دانے اُگلتی ہے .....الخ‘‘ جانور کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح صریح حدیث موجود ہے ۔ زمین کے متعلق کوئی آیت اور حدیث موجود نہیں پھر جانور کو چارہ وغیرہ نہ ڈالا جائے ، تو مر جائے گا زمین کاشت نہ کی جائے تو بھی معدوم نہیں ہوتی اور زمین کو بلاکاشت چھوڑنا ہے بھی مباح جیسا کہ بادلیل لکھا جا چکا ہے نیز مرتہن مرہونہ زمین سے کچھ خرچ کیے بغیر فائدہ اُٹھا سکتا ہے کہ کسی کو ٹھیکہ یا بٹائی پر دے دے جبکہ جانور سے چارہ ڈالے بغیر فائدہ نہیں اُٹھایا جا سکتا تو ان تین وجوہ کی بناء پر جانور والا قانون زمین پر نہیں لگتا۔ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ زمین کو کاشت نہ بھی کیا تو اس میں گھاس مینہ وغیرہ خود رو چارے اُگ آتے ہیں جنہیں زمین والے فروخت کر دیتے ہیں اور ان پیسوں سے دانے وغیرہ بھی خریدے جا سکتے ہیں تو ایسی صورت میں زمین نے خود بخود دانے اُگل دیے۔ (۹).....آپ نے اپنے پہلے مکتوب میں لکھا:’’ اصل زر کے علاوہ خرچہ کے بدلے اگر نفع جانور پر جائز ہے تو کیا اصول نہیں ہے؟ خرچہ تو زمین کاشت پر ہوتا ہے اور نفع ضروری نہیں کہ ہو گا؟‘‘ اس فقیر الی اللہ الغنی نے اس کے جواب میں لکھا:’’ یہ بات بے بنیاد ہے کیونکہ مرتہن مرہونہ زمین کو ٹھیکہ یا بٹائی پر دے تو مرتہن کا خرچہ نہیں ہو گا جبکہ ٹھیکہ یا بٹائی والی آمدنی اسے ملے گی جو مالک راہن کو نہ دینے کی صورت میں سود بنے گی۔‘‘ اس پر آپ اپنے دوسرے مکتوب میں لکھتے ہیں ’’ ہاں ٹھیک ہے زمین لے کر کرایہ یا ٹھیکہ پر دینا سود ہو گا کیونکہ اس پر مرتہن کا خرچہ نہیں ہوا۔‘‘ گھاس مینہ وغیرہ خود رو چارے والی صورت میں بھی مرتہن کا خرچہ نہیں ہوتا تو لا محالہ وہ بھی سود ہی ہو گی تو یہ چیز