کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 53
﴿أَوَلَمْ یَنْظُرُوْا فِیْ مَلَکُوْتِ السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضِ وَمَا خَلَقَ ا للّٰه مِنْ شَیْئٍ لا وَّأَنْ عَسٰیٓ أَنْ یَّکُوْنَ قَدِ اقْتَرَبَ أَجَلُھُمْ ج فَبِأَیِّ حَدِیْثٍ بَعَدَہٗ یُؤْمِنُوْنَ ﴾ [ الاعراف: ۱۸۵] ’’ کیا ان لوگوں نے آسمان و زمین کے انتظام پر کبھی غور نہیں کیا اور اس چیز کو بھی جو اللہ نے پیدا کی ہے آنکھیں کھول کر نہیں دیکھا؟ اور کیا یہ بھی انہوں نے نہیں سوچا کہ شاید ان کی مہلت زندگی پوری ہونے کا وقت قریب آ لگا ہو؟ پھر آخر پیغمبر کی اس تنبیہ کے بعد اور کونسی بات ایسی ہو سکتی ہے جس پر ایمان لائیں ؟‘‘ اَلْحَیُّ الدَّائِمُ: ( ہمیشہ زندہ ذات): جو کھانا ہم کھاتے ہیں وہ سنتا نہیں ہے، نہ دیکھ سکتا ہے، نہ حرکت کر سکتا ہے، نہ بڑا ہو سکتا ہے، نہ سانس لیتا ہے، نہ شادی کرتا ہے اور نہ سوتا ہے نہ جاگتا ہے۔ یہی کھانا جب جسم انسانی میں پہنچتا ہے تو ایک زندہ جسم کی شکل اختیار کر لیتا ہے اورمذکورہ بالا تمام خوبیاں اس میں آ جاتی ہیں ۔ حیوانات کی خوراک کا بھی یہی عالم ہے۔ پانی، مٹی اور ہوا، جو نباتات کی خوراک ہے، ان کا بھی یہی حال ہے۔ از خود نہ وہ بڑھتے ہیں ،نہ پھل دے سکتے ہیں اور نہ خوراک لیتے ہیں ، لیکن جب نباتات کے جسم کا حصہ بن جاتے ہیں تو یہی زندہ نباتات کی شکل اختیار کر لیتے ہیں اور خوب لہلہانے لگتے ہیں ۔ یہ زندگی جو نباتات ، حیوانات اور انسان کے جسم میں گردش کر رہی ہے، ہر جسم میں ، ہر روز بلکہ ہر لحظہ رواں دواں زندگی، اس بات کی شہادت دے رہی ہے کہ یہ زندگی بخشنے والے کا کمال ہے۔ انسان نے بہت زور لگایا جوہر زندگی پیدا کر لے ، لیکن نتیجہ ناکامی اور نامرادی کے سوا کچھ نہ نکلا ۔ بالآخر مشرق و مغرب کے سائنس دان اور مفکرین اپنی ناکامی کا اعلان کرنے پر مجبور ہو گئے ۔ اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا ہے: ﴿ یٰٓأَیُّھَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوْلَہٗ ط إِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ ا للّٰه لَنْ یَّخْلُقُوْا ذُبَابًا وَّلَوِاجْتَمَعُوْا لَہٗ ط وَ إِنْ یَّسْلُبْھُمُ الذُّبَابُ شَیْئًا لاَّ یَسْتَنْقِذُوْہُ مِنْہُ ط ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوْبُ o مَاقَدَرُوا ا للّٰه حَقَّ قَدْرِہٖ ط إِنَّ ا للّٰه لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ o ﴾ [الحج: ۷۳،۷۴] ’’ لوگو! ایک مثال دی جاتی ہے ، غور سے سنو۔ جن معبودوں کو تم اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہو، وہ سب مل کر ایک مکھی بھی پیدا کرنا چاہیں تو نہیں کر سکتے ، بلکہ اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین لے جائے تو وہ اسے چھڑا بھی نہیں سکتے۔ مدد چاہنے والے کمزور، اور جن سے مدد چاہی جاتی ہے وہ بھی کمزور۔ ان لوگوں نے اللہ