کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 527
۲۔ ’’جاہلی دور کا سودیوں تھا کہ طے شدہ مدت کے لیے دس دینار قرض دینا اور وصولی پندرہ کی کرنا۔‘‘ پہلے با حوالہ لکھا جا چکا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی سونے کے ساتھ اور چاندی کی چاندی کے ساتھ متفاضلانہ نقد بنقد بیع اور ردی کھجور کے دو صاع کی برنی کھجور کے ایک صاع کے ساتھ بیع کو ربا اور سود قرار دیا ہے جبکہ یہ تینوں صورتیں آپ کی پیش کردہ دونوں تعریفوں کے مطابق ربا اور سود نہیں بنتیں تو محترم آپ ہی فرمائیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ان تینوں صورتوں کو ربا سود قرار دینا درست ہے؟ یا ان دو تعریفوں کے بموجب ان تینوں صورتوں کا ربا سود نہ ہونا درست ہے؟ آپ نے نقل فرمایا ہے :’’ راہن کے مفلس یا فوت ہو جانے پر قرض مطالبہ کرنے پر نہ ملے تو مرہونہ شے بیچ کر اپنا قرضہ پورا کیا جائے۔‘‘ یہ کوئی قرآن مجید کی آیت نہیں نہ ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے ۔ پھر گروی چیز کو قرض وصول نہ ہونے کی صورت میں فروخت کرنے کی اباحت راہن کی طرف سے صریح یا ضمنی اجازت پر مبنی ہے لہٰذا یہ مرہون چیز کے امانت ہونے کے منافی نہیں ۔ دیکھیں آپ ہی لکھتے ہیں :’’ اصل ملکیت راہن کی رہے گی .....الخ‘‘ نیز لکھتے ہیں :’’ ضمانت ہے‘‘ تو جب مرتہن مرہون چیز کا مالک نہیں وہ چیز اس کے پاس بطورِ ضمانت ہے تو وہ اسے کیونکر بدوں اجازت راہن فروخت کر سکتا ہے۔ کوئی آیت یا سنت و حدیث پیش فرمائیں ۔ (۲).....آپ نے اپنے پہلے مکتوب میں سوال فرمایا:’’ اس زمین پر قبضہ کس کا ہوگا جبکہ یہ زمین رہن ہو؟‘‘ تو اس فقیر الی اللہ الغنی نے اس کا جواب دیا:’’ مرہونہ زمین مرتہن کے پاس رہے گی اس کا مالک راہن ہی ہو گا۔‘‘ یہ جواب پڑھ کر آپ اپنے دوسرے مکتوب میں لکھتے ہیں :’’ یہ صحیح ہے .....الخ‘‘ جب صحیح ہے تو پھر بندوق کے رہن والی بات لکھنے کی کیا ضرورت؟ وہ تو معاملہ کے بگاڑ کی ایک صورت ہے جس کا حل اسلام میں قاضی کی عدالت ہے یا پھر مقروض مفلس ہے تو اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَإِنْ کَانَ ذُوْعُسْرَۃٍ فَنَظِرَۃٌ اِلیٰ مَیْسَرَۃٍ وَأَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَo وَاتَّقُوْا یَوْمًا تُرجَعُوْنَ فِیْہِ اِلَی ا للّٰه ثُمَّ تُوَفّٰی کُلُّ نَفْسٍ مَّا کَسَبَتْ وَھُمْ لَا یُظْلَمُوْنَo﴾ [البقرۃ:۲۸۰۔۲۸۱] [’’ اور اگر کوئی تنگی والا ہو تو اسے آسانی تک مہلت دینی چاہیے اور صدقہ کرو تو تمہارے لیے بہتر ہے ، اگر تم جانتے ہو ۔ اور اس دن سے ڈرو جس میں تم سب اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹائے جاؤ گے اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گااور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔‘‘] (۳).....آپ نے اپنے پہلے مکتوب میں سوال فرمایا:’’ مرتہن اگر کاشت کر لے تو راہن کا کوئی نقصان ہو گا‘‘ تو اس فقیر الی اللہ الغنی نے اس کا جواب لکھا:’’ مرتہن کا شت کرے اور رائج الوقت ٹھیکہ یا بٹائی مالک راہن کو نہ دے تو مالک راہن کا نقصان ہو گا اور مرتہن سود خور بنے گا۔‘‘ اس پر آپ اپنے دوسرے مکتوب میں لکھتے ہیں :’’ٹھیکہ یا کرایہ