کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 526
ذمہ داری ہو سکے مقرر ہو تو اس میں کوئی قباحت نہیں ۔ حنظلہ زرقی سے روایت ہے انہوں نے سنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے وہ کہتے تھے تمام انصار میں ہمارے ہاں کھیت زیادہ تھے ، ہم زمین کو کرایہ پر دیتے یہ کہہ کر کہ یہاں کی پیدوار ہم لیں گے اور تم وہاں کی لینا ، پھر کبھی یہاں اُگتا وہاں نہ اُگتا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہم کو اس سے لیکن چاندی کے بدل کرایہ پر دینا تو اس سے منع نہیں کیا ۔‘‘] تو ان احادیث میں رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے بصراحت فرمایا ہے: ((فیھلک ھذا ویسلم ھذا.....فلم یکن للناس کراء الا ھذا فلذلک زجرعنہ)) کراء الارض کی صرف ایک ہی صورت لوگوں میں رائج تھی وہ یہلک ہذا و یسلم ہذا والی اور اس ایک ہی صورت سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے ۔ٹھیکہ والی صورت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع نہیں فرمایا۔ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی تصریح کہ ٹھیکہ والی صورت میں کوئی حرج وگناہ نہیں نہ ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے اس بات کی زبردست دلیل ہے کہ ان کی حدیث’’ نہی رسول اللّٰه صلی ا للّٰه علیہ وسلم عن کراء الارض‘‘ صرف ’’یھلک ھذا و یسلم ھذا‘‘ والی صورت کو متناول ہے اس کے علاوہ ٹھیکہ وغیرہ والی صورت کو متناول نہیں ۔ ثانیاً اس لیے اس تعلیل کی بنیاد اس بات پر ہے کہ ٹھیکہ والا مال ٹھیکہ پر لی ہوئی زمین سے پیدا شدہ اناج کے معاوضہ میں ہے حالانکہ واقع میں اس طرح نہیں ٹھیکہ والا مال زمین کے مالک کے اپنی زمین کو کچھ عرصہ کے لیے زراعت و کاشت کی خاطر ٹھیکیدار کے حوالے کرنے کے عوض میں ہے آگے وہ اس زمین کو کاشت کرے خواہ نہ کرے کاشت کرنے کی صورت میں اناج پیدا ہو خواہ نہ ہو چنانچہ لفظ ’’کراء الارض‘‘ اس پر دلالت کر رہا ہے ’’کراء ما تخرجہ الأرض‘‘ تو کوئی بھی نہیں کہتا۔ ثالثاً اس تعلیل کو صحیح تسلیم کر لیا جائے تو لازم آ جائے گا کہ بیع و شراء اور تجارت بھی حرام اور ناجائز ہو کیونکہ فریق بائع نے تو مشتری سے معین مال بطورِ قیمت وصول کر لیا اور قطعی فائدے میں رہا اور مشتری کو مال مبیع دے کر غیر یقینی صورت کے حوالے کر دیا اس کے حصے میں شاید پسینہ بہانے کے سوا کچھ نہ آئے یہ صورت سود اور جوئے کے کس قدر مشابہ ہے کیونکہ مشتری نے مال اپنے ٹھکانے پر پہنچانے کی مشقت و اُجرت برداشت کی ادھر مال قدرتی آفات سے ہلاک ہو گیا اور ایسا ہوتا ہے تو فرمائیے اس تعلیل کی بنیاد پر آپ بیع و تجارت کو حرام اور ناجائز سمجھتے ہیں یا سمجھیں گے؟ جبکہ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں : ﴿وَأَحَلَّ ا للّٰه الْبَیْعَ جناب نے سود کی دو تعریفیں نقل فرمائی ہیں ۔ ۱۔’’ طے شدہ رقم پر طے شدہ مدت پر طے شدہ اضافہ سود ہے۔‘‘