کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 521
’’ حضرت سعید بن المسیب رضی اللہ عنہ نے روایت کرتے ہوئے فرمایا کہ گروی چیز کو روکا نہیں جائے گا۔‘‘ مذکورہ حدیث کے مطابق چیز کا گروی لینے والا گروی شدہ چیز کا مالک نہیں بنے گا خواہ وہ شرط کیوں نہ لگالے گروی شدہ چیز مالک ہی کی ہو گی ۔ مرتہن مالک نہیں بنے گا جیسے کہ جاہلیت کا دستور تھا کہ رقم نہ ملنے پر اس کے عوض مالک بن جانا یہ جائز نہیں ۔ واللہ اعلم بالصواب مذکورہ بالا دلائل کی روشنی میں کہ گروی چیز سے نفع اُٹھانا بالکل درست اور جائز ہے۔ موجودہ دور میں اگر زمین وغیرہ گروی لینا ہے تو خرچہ کر کے کاشت کرلے اور اس سے نفع ہو جائے یعنی خرچہ نکال کر پرافٹ آئے تو شریعت کی رو سے وہ پرافٹ جائز اور صحیح ہے کیونکہ یہ پرافٹ بوجہ خرچہ کے ہے نہ کہ رقم کی وجہ سے ہاں البتہ اگر کوئی زمین گروی لے کر ٹھیکہ پر دے دے تو یہ منع ہو گا اس لیے کہ اس نے خرچ نہیں کیا ۔ ھذا ما عندی واللّٰه اعلم بالصواب الراقم رحمت اللّٰه راشد غفرہ اللّٰه الواحد مدرس جامعۃ محمدیۃ اوکاڑہ ج: صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے: (( عَنْ عُمَرَ رضی اللّٰه عنہ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ ا للّٰه صلی ا للّٰه علیہ وسلم ’’اَلذَّھَبُ بِالذَّھَبِ رِبًا إِلاَّ ھَائَ وَھَائَ ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ رِبًا إِلاَّ ھَائَ وَھَائَ)) [1] الحدیث ۔[’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سونا سونے کے بدلے میں اگر نقد نہ ہو تو سود ہو جاتا ہے ، گندم گندم کے بدلے میں اگرنقد نہ ہو تو سود ہو جاتا ہے جو جو کے بدلے میں اگر نقد نہ ہو تو سود ہو جاتا ہے اور کھجور کھجور کے بدلہ میں اگر نقد نہ ہو تو سود ہو جاتا ہے۔‘‘] نیز صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے: ((عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ قَالَ:’’جَائَ بِلَالٌ إِلَی النَّبِیِّ صلی ا للّٰه علیہ وسلم بِتَمْرٍ بَرْنِیٍّ ، فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ صلی ا للّٰه علیہ وسلم : مِنْ أَیْنَ ھٰذَا؟ قَالَ: کَانَ عِنْدَنَا تَمْرٌ رَدِیٌّ ، فَبِعْتُ مِنْہُ صَاعَیْنِ بِصَاعٍ۔ فَقَالَ: أَوَّہ عَیْنُ الرِّبَا ، عَیْنُ الرِّبَا…))[2]الحدیث۔[’’ ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بلال رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس برنی کھجوریں لایا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو کہاں سے لایا ہے؟ اس نے کہا : ہمارے پاس کچھ ردی قسم کی کھجوریں تھیں میں نے دو صاع دے کر ایک صاع یہ کھجوریں لی ہیں ۔ فرمایا : آہ یہ تو عین سود ہے ، عین سود ہے ۔ ایسا نہ کر بلکہ اگر تو خریدنا چاہتا ہے کھجوروں کو ایک دوسری بیع کے ساتھ فروخت کر پھر اس کے ساتھ خرید ۔‘‘] یہ دونوں حدیثیں آپ مشکاۃ /کتاب البیوع/ باب الربا میں بھی دیکھ سکتے ہیں ۔ ان دونوں حدیثوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مخصوص صورتوں کو ربا و سود گردانا ہے جبکہ اس سے پہلے نہ [1] بخاری /کتاب البیوع/باب بیع الشعیر بالشعیر۔ مسلم /کتاب البیوع /باب الربا۔ [2] ایضاً