کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 519
بخلاف لمرتھن کما یجوز للمرأۃ اخذ مؤونتھا من مال زوجھا عند امتناعہ بغیر اذنہ والنیابۃ عنہ فی الانفاق علیھا۔)) [بخاری ؍کتاب الرھن ؍باب الرھن مرکوب و محلوب مع فتح الباری جلد:۵،ص:۱۴۳۔۱۴۴ مطبوعۃ دار المعرفۃ بیروت ، لبنان] ’’ترجمہ: یعنی گروی چیز جو بھی ہو یہ حدیث کا واضح مفہوم ہے۔ اور اسی حدیث میں اس شخص کی دلیل موجود ہے جس نے یہ کہا کہ گروی لینے والے کے لیے گروی چیز سے نفع لینا جائز ہے جبکہ وہ اس کی مصلحت کا خیال رکھے اگرچہ مالک اس کے لیے اجازت نہ بھی دے۔ اور ایک گروہ کا خیال ہے کہ گروی لینے والا گروی چیز سے خرچہ کے مطابق سوار ہونے کا اور دودھ کا نفع اُٹھا سکتا ہے اور ان دو چیزوں کے علاوہ کسی اور گروی چیز سے نفع نہیں اُٹھا سکے گا ۔ حدیث کے مفہوم کی وجہ سے لیکن یہ دعوی اس حدیث میں اجمالی ہے۔(یعنی بغیر دلیل کے) پس یقینا حدیث اپنے بیان کے ذریعہ خرچہ کے مقابلے میں نفع اُٹھانے کے جواز پر دلالت کرتی ہے اور یہ خاص ہے گروی لینے والے کے ساتھ ۔ اور گروی لینے والے کے لیے اس گروی چیز میں حق ہے اور یقینا اس نے اس گروی چیز کے حق کو پورا کرنے کا خیال کیا ہے گروی چیز کے بڑھنے سے اور مالک کا نائب ہونے میں اس چیز میں جو اس پر واجب ہو اور اس گروی لینے والے کا اس گروی چیز سے پورے فائدے حاصل کرنا ، ایسے ہی جائز ہے جیسے عورت کے لیے اپنی محنت کے مطابق اپنے خاوند کا مال لے سکتی ہے ۔ اس کی اجازت کے بغیر اس کے انکار کے وقت بوجہ عورت کے نائب ہونے کے اپنے خاوند کا اپنی ذات پر خرچہ کر نے میں ۔ (یہ حدیث بخاری کی ہے جو اصل شرح فتح الباری سے نقل کی گئی ہے) (باب الانتفاع بالرھن)‘‘ باب کا ترجمہ یہ ہے: (گروی چیز سے نفع اُٹھانے کا باب ہے) مذکورہ حدیث بخاری شریف والی امام ترمذی رحمہ اللہ اس باب کے تحت لائے ہیں ۔ اس حدیث کی مزید تشریح ملاحظہ ہو: (( ففیہ ما قال الحافظ ابن القیم فی اعلام الموقعین ومن ذلک قال بعضھم ان الحدیث الصحیح وھوقولہ الرھن مرکوب ومحلوب۔وعلی الذی یرکب ویحلب النفقۃ علی خلاف القیاس فانہ جوزلغیر المالک ان یرکب و یحلبھا و ضمنہ ذالک بالنفقۃ.....وکذالک فیہ حق المالک وللمرتھن حق الوثیقۃ وقد شرع اللّٰه سبحانہ الرھن مقبوضا (بید المرتھن فاذا کان بیدہ فلم یرکبہ ولم یحلبہ ذھب