کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 515
(۱)…زمین رہن رکھی جا سکتی ہے اگر حرام اور سود کے زمرہ میں شامل نہ ہو۔ (۲)…مرہونہ زمین مرتہن کے پاس رہے گی اس کا مالک راہن ہی ہو گا۔ (۳)…مرتہن کاشت کرے اور رائج الوقت ٹھیکہ یا بٹائی مالک راہن کو نہ دے تو مالک راہن کا نقصان ہو گا اور مرتہن سود خور بنے گا۔ (۴)…اگر کاشت نہ کرے تو زمین خراب ہونے کا اندیشہ ہے پھر مالک راہن اپنی زمین کی آمدنی سے بھی محروم ہو گا۔ (۵)…زمین کو بے کاشت کیے چھوڑ دینا زمین کی آمدنی سے محرومی کے ساتھ ساتھ زمین کو خراب کرنے کا اندیشہ ہے۔ (۶)…حفاظت سے آپ کیا مراد لیتے ہیں ؟ بتانے پر ہی جواب دیا جا سکتا ہے۔ (۷)…امانت ہے ۔ مالک راہن کی اجازت ہو تو فروخت کر سکتا ہے ورنہ نہیں ۔ (۸)…سواری اور دودھ والے جانور پر بند ہیں ۔ (۹)…یہ بات بے بنیاد ہے کیونکہ مرتہن مرہونہ زمین کو ٹھیکہ یا بٹائی پر دے تو مرتہن کا خرچہ نہیں ہو گا جبکہ ٹھیکہ یا بٹائی والی آمدنی اسے ملے گی جو مالک راہن کو نہ دینے کی صورت میں سود بنے گی۔ (۱۰)…نہیں ! یہ سود نہیں تھا۔ (۱۱)…کاروبار کریں البتہ خیال رکھیں کہ یہ کاروبار شرعاً جائز ہے یا ناجائز؟ اگر جائز و حلال ہے تو وہ کاروبار کر لیں اگر وہ حرام اور ناجائز ہے تو وہ کاروبار نہ کریں ۔ کسی شے کا کاروبار ہونا یا مشکل کاروبار ہونا اس کے جائز و حلال ہونے کی دلیل نہیں ۔ (ب)زمین ٹھیکہ یا بٹائی پر لینا دینا درست ہے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی حدیث میں کرائے کی ایک مخصوص صورت سے منع کیا گیا ہے وہ صورت یہ ہے کہ سفیدہ زمین کاشت کرنے سے قبل قطعوں میں تقسیم کر لی جائے کچھ قطعے مالک کے اور کچھ قطعے مزارع کے ۔ بعد میں بیج ڈالاجائے کبھی مزارع کے کیاروں میں فصل نہ ہوتی کبھی مالک کے کیاروں میں کچھ نہ ہوتا اس خاص صورت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔ چنانچہ صحیح مسلم اور صحیح بخاری [1]کی احادیث سے واضح ہوتا ہے۔ نوٹ:.....اختلافی مسائل میں حلال و حرام لکھ دینا مناسب ہے بشرطیکہ کتاب و سنت میں حلال یا حرام کہا گیا [1] بخاری؍کتاب الحرث والمزارعۃ ؍باب ما یکرہ من الشروط فی المزارعۃ۔مسلم؍کتاب البیوع؍باب کراء الارض بالذھب والورق۔