کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 514
(۳)…مرتہن اگر کاشت کرے تو راہن کا کوئی نقصان ہو گا؟ (۴)…اگر کاشت نہ کیا جائے تو راہن کا کوئی فائدہ ہو گا؟ (۵)…کیا زمین بے کاشت چھوڑ دینا ٹھیک ہے؟ (۶)…کاشت کرنا شئے مرہونہ کی حفاظت و دیکھ بھال تصور ہو گی؟ (۷)…شے مرہونہ بطور امانت ہے یا ضمانت؟ قرضہ واپس نہ ملنے کی صورت میں اسے بیچ کر قرضہ وصول کیا جا سکتا ہے؟ (۸)…بخاری اور ترمذی شریف میں جو حدیثیں ہیں انتفاع بالرہن والی وہ صحیح ہیں تو یہ حدیثیں جانور پر بند ہیں یا عام ہیں ؟ (۹)…اصل زر کے علاوہ خرچہ کے بدلے اگر نفع جانور پر جائز ہے تو کیا اصول نہیں ہے؟ خرچہ تو زمین کاشت پر ہوتا ہے اور نفع ضروری نہیں کہ ہو گا؟ (۱۰)…مشکوٰۃ شریف میں حدیث ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کو قرضہ ادا کیا اور کچھ زیادہ دیا تو کیا وہ سود تھا؟[1] (۱۱)…یہ کاروبار کی ایک شکل ہے ایک آدمی کاشت جیسا مشکل کام نہیں کر سکتا وہ زمین پر قرضہ لے کر دوسرا کاروبار کر رہا ہے جو زمین سے زیادہ نفع بخش ہے اور دوسرا آدمی کاروبار کے مکرو فریب سے واقف نہیں وہ کاشت کاری کرتا ہے۔ نوٹ:.....گزارش ہے کہ ہر شے کو آپ الگ الگ لکھیں اور آخر میں سود کی جامع تعریف لکھیں ۔ شکریہ (ب) ٹھیکہ یا کرایہ پر زمین دینے کی تو بخاری میں رافع بن خدیج والی حدیث سے نفی ہے آپ نے جائز کیسے لکھ دیا ۔ بحوالہ مختصر بخاری [بخاری؍کتاب المزارعۃ؍باب ماکان اصحاب النبیّ یواسی بعضھم بعضاً فی الزراعۃ والثَّمر]حدیث:۱۰۸۴۔ کرایہ ۔کے متعلق علامہ یوسف القرضاوی کی کتاب’’ حلال و حرام ‘‘ کی فوٹی کاپی ملاحظہ فرما لیں ۔ نوٹ:.....اختلافی مسائل میں حلال اور حرام لکھ دینا مناسب نہیں معلوم ہوتا زیادہ سے زیادہ وہ ترجیح والی بات کہہ سکتا ہے۔ ایک مسلک کے دو عالم ایک حرام کہے دوسرا حلال تو عوام کیا کریں ؟ (صوبیدار محمد رشید، تحصیل و ضلع قصور) ج: مرہونہ زمین سے فائدہ اُٹھانا درست ہے بشرطیکہ سود و حرام نہ بنے۔ کرایہ پر زمین لینا دینا درست ہے بشرطیکہ کرایہ کی ناجائز و حرام صورت نہ ہو۔ [1] ابو داؤد؍کتاب البیوع؍باب فی حسن القضاء