کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 513
اسے استعمال کرتے رہیں ۔ آپ کا جی چاہے تو اس سے پیداوار میں سے کچھ ہمیں دیتے رہیں ، نہ چاہیں تو بے شک کچھ نہ دیں ۔ جب ہم تیس ہزار(۳۰۰۰۰)روپے ادا کر دیں گے تو زمین واپس لے لیں گے۔ میں نے مسلسل اصرار کیا کہ مجھے ہر صورت پیسے دو لیکن وہ رقم واپس کرنے کے لیے ہر گز تیار نہیں ۔ نہ میں زبردستی ان سے لے سکتا ہوں ۔ وہ میرے پیسے استعمال کر رہے ہیں اور میں ان کی زمین استعمال کر رہا ہوں ۔ پانی وغیرہ تمام اخراجات میں خود برداشت کر رہا ہوں ۔ مجھے کسی نے بتایا ہے کہ اگر میں آٹھواں حصہ پیدوار سے مالکان کو دیتا رہوں تو یہ رہن رکھنا جائز ہے۔ لیکن میر ادل مطمئن نہیں ہے۔ آپ سے التماس ہے کہ مذکورہ صور ت میں میرا یہ فعل جائز ہے یا نہیں ؟ اور زمین گروی( گہنہ) رکھنا درست ہے یا نہیں ؟ اگر درست ہے تو کن شرائط کے تحت؟ اور اگر درست نہیں تو مذکورہ صورت حال میں میں کیا کروں ؟ ج: جس تاریخ سے آپ نے زمین گروی لی ہے اس تاریخ سے آج تک اس کے رائج الوقت ٹھیکہ یا بٹائی کا حساب لگاؤ اگر پورے تیس ہزار بنتے ہیں تو بغیر کچھ لیے دیے زمین مالک راہن کو واپس کر دو۔ اگر تیس ہزار سے کم بنتے ہیں تو تیس ہزار پورے ہونے تک کاشت کر لو پھر واپس کر دینا اور اگر تیس ہزار سے زیادہ بنتے ہیں تو زمین مالک راہن کو فوراً واپس کر دو اور جتنے پیسے تیس ہزار سے زائد بنتے ہیں وہ بھی واپس کرو کیونکہ یہ زائد پیسے سود کے زمرہ میں آتے ہیں اور سود حرام ہے ۔قرآن مجید میں ہے : ﴿وَحَرَّمَ الرِّبٰوا﴾ [البقرۃ:۲۸۵] [’’اور سود کو حرام قرار دیا ہے۔‘‘] واللہ اعلم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ((اَلظَّھْرُ یُرْکَبُ بِنَفَقَتِہٖ إِذَا کَانَ مَرْھُوْنًا ، وَلَبَنُ الدَّرِّ یُشْرَبُ بِنَفَقَتِہٖ إِذَا کَانَ مَرْھُوْنًا ، وَعَلَی الَّذِيْ یَرْکَبُ وَیَشْرَبُ النَّفَقَۃُ)) [1] [’’ رہن رکھے ہوئے جانور پر ( اس پر اُٹھنے والے) مصارف و اخراجات کے بدلے سواری کی جا سکتی ہے اور دودھ دینے والے جانور کا دودھ( اس پر اُٹھنے والے) مصارف کے بدلے پیا جا سکتا ہے جبکہ وہ رہن ہو اور جو آدمی سواری کرتا ہے اور دودھ پیتا ہے اس کے اخراجات کا ذمہ دار بھی وہی ہو۔‘‘[2] ]لہٰذا یہ دونوں چیزیں سود کے زمرہ میں نہیں آتیں ۔ واللہ اعلم ۱۰/۴/۱۴۲۴ھ س: مرہونہ زرعی زمین سے فائدہ اُٹھانا کیسا ہے؟ کرایہ پر مکان دینا کیسا ہے؟ (۱).....زمین رہن رکھی جا سکتی ہے؟ (۲)…اس زمین پر قبضہ کس کا ہو گا جبکہ یہ رہن ہو؟ [1] بخاری؍کتاب الرھن؍باب الرھن مرکوب و محلوب۔ ترمذی ؍کتاب البیوع الانتفاع بالرھن [2] بخاری/کتاب الرھن/ باب الرھن مرکوب و محلوب ۔ ترمذی /ابواب البیوع /باب الانتفاع بالرھن۔