کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 512
’’مرہون جانور پر خرچ کے عوض سواری کی جا سکتی ہے او ر اس کا دودھ پیا جا سکتا ہے اور جو سوار ہو گا اور دودھ پیے گا ،وہ( اسی حساب سے جانور کی ضروریات کے لیے) خرچ ادا کرے گا۔‘‘ 10۔گروی چیز کی آمدنی ، اُجرت ، محصول ، نسل وغیرہ سب ’’راہن‘‘ کی ملکیت ہے اور وہی ان تمام چیزوں کا انتظام کرے گا ، جن سے گروی چیز کی بقاء ہے ، مثلاً پانی پلانا وغیرہ۔ اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (( اَلرَّھْنُ لِمَنْ رَھَنَہٗ ، لَہٗ غُنْمُہُ وَعَلَیْہِ غُرْمُہٗ)) [1] ’’مرہون چیز ’’راہن‘‘ کی ملکیت ہے، وہی اس کے نفع کا مالک ہے اور اسی پر اس کا تاوان ہے۔‘‘ 11۔اگر ’’مرتہن‘‘ نے ’’راہن‘‘ کی اجازت کے بغیر حیوان وغیرہ پر خرچ کر دیا ہے تو وہ ’’راہن‘‘ سے مطالبہ نہیں کر سکتا ، ہاں اگر اس کے لیے دور کی مسافت کی وجہ سے فوری طور پر اجازت لینا ممکن نہیں ہے تو پھر وہ اس کا مطالبہ کر سکتا ہے ، بشرطیکہ اس نے ’’راہن‘‘ سے وصول کرنے کی نیت سے خرچ کیا ہو ، ورنہ نہیں ۔ اس لیے کہ جس نے نیکی سمجھ کر خرچ کیا ہے وہ وصول نہیں کر سکتا۔ 12۔شکستہ اور ویران مکان کو اگر ’’مرتہن‘‘ نے راہن کی اجازت کے بغیر مرمت اور آباد کر دیا ہے تو وہ ’’راہن‘‘ سے کچھ نہیں لے سکتا۔ ہاں لکڑی ، پتھر وغیرہ جن کا اُتارنا انتہائی مشکل ہوتا ہے ، کا حساب ’’راہن‘‘ سے لے سکتا ہے۔ 13۔’’راہن‘‘ کے فوت یا مفلس ہونے کی صورت میں ’’مرتہن‘‘ کا استحقاق دوسرے قرض خواہوں سے زیادہ ہے۔ چنانچہ ’’میعاد ادائیگی‘‘ آنے پر وہی رہن فروخت کر کے اپنا قرض وصول کرے گا اور جو زائد ہے اسے واپس کرے گا اور اس کی فروخت سے قرض پورا نہیں ہوا تو وہ باقی قرض میں دوسرے قرض خواہوں کے برابر ہے۔] س: ایک شخص سے میں نے چھ کنال زرعی اراضی ، جس کی ملکیت تیس ہزار(۳۰۰۰۰)روپے طے ہوئی، خریدنے کے لیے پوری رقم اسے ادا کر دی ۔ ابھی تحریر و رجسٹری وغیرہ نہ ہوئی تھی کہ وہ شخص زمین دینے سے مکر گیا اور پیسے بھی مجھے واپس نہیں کیے۔ جب میں نے پیسوں کی واپسی کا مطالبہ کیا تو اس نے کہا میں وہ پیسے کاروبار میں صرف کر چکا ہوں ۔ پیسے میں کسی طرح واپس نہیں کر سکتا۔ البتہ آپ مذکور چھ کنال زمین رہن’’ گہنہ‘‘ پر رکھ لیں ۔ [1] سنن ابن ماجۃ بسند حسن۔