کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 506
بیع سلم کی شرائط: (۱).....قیمت نقد ہو ، مثلاً سونا یا چاندی یا نوٹ۔ اس طرح سودی چیز اپنی مثل کے ساتھ اُدھار پر فروخت نہ ہو سکے گی۔ (۲).....’’بیع‘‘ کا تعین صفت کے ساتھ اس طرح ہو کہ اس کی جنس، نوع اور مقدار معلوم ہو جائے تاکہ بعد میں فریقین کے مابین کسی قسم کا جھگڑا اور نزاع و قوع پذیر نہ ہو کہ جس سے ان کے مابین عداوت و دشمنی ہو جائے۔ (۳)…وقت ادائیگی معلوم ہو اور واضح طور پر اس کا تعین کر دیا جائے۔ مثلاً ایک ماہ یا دو ماہ۔ (۴)…قیمت اسی مجلس میں ’’بائع ‘‘ وصول کر لے ، تاکہ اُدھار کی بیع اُدھار کے ساتھ نہ ہو جائے جو کہ شرعاً ممنوع ہے۔ ان شرطوں کی دلیل یہ فرمانِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے : (( مَنْ أَسْلَفَ فِيْ شَیْئٍ فَلْیُسْلِفْ فِيْ کَیْلٍ مَعْلُوْمٍ وَّ وَزْنٍ مَعْلُوْمٍ اِلٰی أَجَلٍ مَّعْلُومٍ)) [1] ’’جو کسی چیز کی پیشگی رقم دیتا ہے تو وہ معین ناپ اور مقررہ وزن میں ایک معین وقت تک کے لیے ایسا کرے۔‘‘ بیع سلم کے سودے میں چار چیزوں کا تعین ضروری ہے جنس ، قیمت ، مقدار اور مدت اور اس کی یہ بھی شرط ہے کہ مشتری جب تک بائع سے مطلوبہ جنس خود وصول نہ کر لے یہ سودا کسی دوسرے خریدار کی طرف منتقل نہیں ہو سکتا۔ بیع سلم کے احکام: (۱).....میعاد ادائیگی اتنی ہو کہ اس مدت میں قیمت کا اُتار چڑھاؤ ہو سکتا ہو ، مثلاً ایک ماہ یا دو ماہ ، اس لیے کہ دو چار دن کی مدت کا حکم عام ’’بیع‘‘ والا ہے اور ’’بیع‘‘ میں یہ شرط ہے کہ مبیع کو اچھی طرح دیکھ لے ، یا اس کی معرفت حاصل کر لے۔ (۲).....وقت ادائیگی کے لیے ضروری ہے کہ اس وقت مطلوبہ جنس کا پایا جانا ممکن ہو ، لہٰذا بہار کے موسم کو تازہ کھجور کی ادائیگی کا وقت یا سردیوں میں انگور کی ادائیگی کا وقت مقرر نہ کیا جائے ۔ اس لیے کہ اس صورت میں مسلمانوں میں اختلاف واقع ہو گا۔ [1] بخاری؍کتاب السلم؍باب السلم فی کیل معلوم۔ مسلم؍کتاب البیوع؍باب السلم۔ ترمذی؍کتاب البیوع؍با ب ما جاء فی السلف فی الطعام والتمر۔ ابن ماجہ؍کتاب التجارات؍باب السلف فی کیل معلوم ووزن معلوم الی اجل معلوم۔