کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 503
اس معاملہ میں ،میں آپ جناب سے راہنمائی چاہتا ہوں کہ میری تنخواہ اتنی قلیل ہے کہ جس سے میں اپنی فیملی جو کہ انیس(۱۹) افراد پر مشتمل ہے بڑی مشکل سے مہینہ بھر کا خرچہ پورا کرتا ہوں ۔ اس تنخواہ میں سے تو میں نہ وکیل کی فیس ادا کر سکتا ہوں اور نہ ریڈر کو ہر پیشی پر خرچہ دے سکتاہوں اور نہ ہی اپنے اعلیٰ افسروں کی خدمت کر سکتا ہوں اور دوسری طرف مجھے اُدھار مانگنے سے ویسے ہی نفرت ہے آیا کہ میں عدالت میں کیس کرنے کا خرچہ یا اپنے اعلیٰ افسروں کو دی جانے والی رقم کے برابر رقم رشوت وصول کر سکتا ہوں تاکہ مجھے کسی سے اُدھار نہ مانگنا پڑے اور میرے گھر کے اخراجات پر بھی کوئی اثر نہ پڑے۔ (۲) جب کسی دوسرے سرکاری محکمہ مثلاً بجلی ، سوئی گیس ، ٹیلی فون وغیرہ میں کام کروانے کے لیے جانا پڑ جائے تو متعلقہ اہلکار رشوت طلب کرتے ہیں جبکہ میں نے قسم کھائی ہے کہ نہ رشوت لوں اور نہ دو ں گا۔ آپ کو تو معلوم ہی ہے کہ خدمت نہ کرنے کی وجہ سے سائل کو کتنا تنگ کیا جاتا ہے۔ راہنمائی درکار ہے۔ ج: آپ اپنی قسم پر قائم رہیں نہ رشوت لیں نہ رشوت دیں نہ ہی عدالت میں مقدمہ دائر کریں ۔ صبر کریں کوشش جاری رکھیں اور ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے رہیں ۔ دو دعائیں مندرجہ ذیل ہیں باقی دعاؤں والی کتاب حصن المسلم وغیرہ لے لیں جو دعاء ان میں آپ کی مناسب حال ہو وہ بھی پڑھتے رہا کریں آپ کا کام ہو جائے گا۔ ان شاء اللہ تعالیٰ ۔ ۱۔((اَللّٰھُمَّ أَکْثِرْ مَالِیْ وَوَلَدِیْ وَبَارِکْ لِیْ فِیْمَا اَعطَیْنِیْ)) [1] ۲۔(( اَللّٰھُمَّ اکْفِنِیْھِمْ بِمَا شِئْتَ)) [2] ۲۰/۸/۱۴۲۲ھ س: میڈیکل فٹنس(الحمد للہ) کے باوجود بھی ہسپتال کا M.S رشوت لینے کی خاطر دستخط نہیں کرتا تھا ۔ میں نے رشوت سے بچنے کے لیے خود M.S کے دستخط کر دیے کیا یہ بے ایمانی ہے ؟ کیونکہ مجھے اس کا خاصا فکر ہے؟ ج: ہاں غش و گناہ ہے۔ [رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ غَشَّ فَلَیْسَ مِنَّا)) ’’جس نے دھوکہ کیا وہ ہم سے نہیں ۔‘‘[3]] [1] بخاری /کتاب الدعوات /باب الدعاء بکثرۃ المال والولد مع البرکۃ [2] صحیح مسلم؍کتاب الزھد؍باب قصۃ اصحاب الاخدود والساحر والراھب والغلام۔ [3] مسلم/کتاب الایمان / باب قول النبی من غشنا فلیس منا۔ ترمذی /کتاب البیوع /باب کراھیۃ الغش فی البیوع۔