کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 497
اس لیے سود کی رقم سے بیوت الخلاء تعمیر کرنے ، کسی غریب کی امداد کرنے اور کسی کا قرض اُتارنے والے نظریات غلط و بے بنیاد ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَاِنْ تُبْتُمْ فَلَکُمْ رُئُ وْسُ اَمْوَالِکُمْ لَا تَظْلِمُوْنَ وَلَا تُظْلَمُوْنَ﴾ [البقرۃ:۲/۲۷۹] [’’اور اگر توبہ کر لو تو تمہار ا اصل مال تمہارا ہی ہے نہ تم ظلم کرو نہ تم پر ظلم کیا جائے۔‘‘] ۸/۱۰/۱۴۲۰ھ س: ایک آدمی کا باپ فوت ہو گیا ہے اور اس کی جائیداد میں سود کے پیسے ہیں ۔ اب وہ پیسے ورثاء لے سکتے ہیں یا نہیں ؟ اگر نہیں لے سکتے تو کیا کریں ؟ (ضیاء اللہ ، اوکاڑہ) ج: اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَاِنْ تُبْتُمْ فَلَکُمْ رُئُ وْسُ اَمْوَالِکُمْ﴾[البقرۃ:۲۷۹] [’’ہاں اگر توبہ کر لو تو تمہارا اصل مال تمہارا ہی ہے۔‘‘]تو اس آیت کریمہ کے مد نظر ورثاء سود کے پیسے واپس کر دیں اور باقی جائیداد کتاب و سنت کے مطابق تقسیم کر لیں ۔ ۲۶/۲/۱۴۲۱ھ س: بینک کی ملازمت کے بارے میں کیا خیال ہے ؟ کیا الیکٹریشن اور چوکیدار ان لوگوں سے مستثنیٰ ہیں جو سودی کام کرتے ہیں ؟ (۲)بعض بینک ملازمین یہ عذر پیش کرتے ہیں کہ مجبوراً یہ نوکری کر رہے ہیں اور کوئی وسائل نہیں کہ یہ نوکری چھوڑ دی جائے نیز ایسے لوگوں کے گھروں سے کھانا اور ان سے تعلق رکھنا کیسا ہے؟ (عبداللطیف تبسم) ج: رائج الوقت بینک سودی ہیں اس لیے ان میں ملازمت ناجائز اور حرام ہے ۔ بینک میں الیکٹریشن اور چوکیدار سود لینے دینے والوں میں تو شامل نہیں البتہ سودی لین دین والے کاروبار میں معاون ضرور ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَی الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ﴾ [’’گناہ اور زیادتی کے کاموں میں تعاون نہ کیا کرو۔‘‘] (۲) اس عذر کی کوئی وجہ جواز نہیں ایسے لوگوں کا کھانا کھانا پانی پینا درست نہیں ۔ خود انہیں کھلا پلا لے اور انہیں وعظ و نصیحت کرتا رہے۔ ۳/۹/۱۴۲۱ھ س: کیا جی پی فنڈ لینا درست ہے؟ (عبداللطیف تبسم ، اوکاڑہ) ج: جی پی فنڈ کی رقم میں سود بھی شامل ہوتا ہے جو حرام ہے ۔ لہٰذا ملازم کی جمع شدہ رقم بلا سود درست ہے اسی طرح پنشن میں بھی اگر کوئی ناجائز شے شامل نہ ہو تو درست ہے؟ س: ایک لڑکا جس کی عمر تقریباً سترہ اٹھارہ سال ہے اس کے والد نے بینک سے سود لے رکھا ہے۔ مجبوری یہ ہے کہ اب اس کے والد کے پاس کسی بھی طرح اتنی رقم نہیں کہ وہ بینک کا روپیہ واپس کر سکیں ۔ اُن کے پاس