کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 496
کا حکم ہے :﴿وَتَعَاوَنُوْا عَلَی الْبِرِّ وَالتَّقْوٰی وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَی الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ﴾[المائدۃ:۲] [’’نیکی اور پرہیز گاری میں ایک دوسرے کی امداد کرتے رہو اور گناہ اور ظلم و زیادتی میں مدد نہ کرو۔‘‘]گناہ کے کام میں تعاون بھی حرام، ممنوع اور گناہ ہے ۔ س: (۱)کیا بینک میں رقم جمع کرانا سود میں تعاون کرنا ہے ؟ (۲)کیا بینک میں جمع شدہ رقم کا نفع سود ہے؟ (۳)اگر مذکورہ بالا سوالات کا جواب اثبات میں ہے تو پھر جمع شدہ رقم کو کہاں محفوظ کریں ؟ (۴)ایک آدمی بینک میں جمع شدہ رقم سے زکوٰۃ نہیں دیتا لیکن وہ یہ کہتا ہے کہ میں نے آئندہ اپنے بیٹوں کے لیے مدرسہ تعمیر کرانا ہے اس لیے میں اب زکوٰۃ نہیں دوں گا۔ جب رقم زکوٰۃ زیادہ ہو جائے گی تو مدرسہ تعمیر کروا دوں گا؟ (قاری محمد عبداللہ ظہیر ، لاہور) ج: (۱)ہاں ! سود ہے یا سود میں تعاون ہے یا دونوں چیزیں ہیں ۔ (۲)ہاں ! سود ہے۔ (۳) جہاں نہ سود بنے ، نہ سود میں تعاون بنے اور نہ ہی کسی اور طرح سے کتاب و سنت کی خلاف ورزی بنے۔ (۴)اگر سیونگ اکاونٹ میں ہے توجس کو زکوٰۃ کا نام دیا جا رہا ہے وہ زکوٰۃ نہیں اگر کرنٹ اکاونٹ میں ہے تو بوجہ تعاون علی الاثم مجرم ہے ، پھر زکوٰۃ دینے والا اپنے بیٹوں کی تعلیم وغیرہ پر زکوٰۃ صرف نہیں کر سکتا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿اِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَآئِ وَالْمَسَاکِیْنَ﴾ [’’صدقات تو دراصل فقیروں ، مسکینوں اور ان کارندوں کے لیے ہیں جو ان ( کی وصولی) پر مقرر ہیں نیز تالیف قلب غلام آزاد کرانے ، قرض داروں کے قرض اُتارنے ، اللہ کی راہ میں اور مسافروں پر خرچ کرنے کے لیے ہیں یہ اللہ کی طرف سے فریضہ ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے۔]صدقہ و زکوٰۃ کے مصرف ہیں آٹھ۔ سورۂ توبہ کی آیت نمبر ہے ساٹھ۔ ۱۷/۱۰/۱۴۲۱ھ س: ایک آدمی رقم بینک میں رکھتا ہے وہ سود دیتے ہیں وہ اسے لے کر کسی قرض دار کا قرضہ ادا کرتا ہے آیا وہ مجرم ہو گا یا نہیں ؟(عبدالرحمن) ج: اپنے اصل پیسے لے سکتا ہے سود وصول نہ کرے اگر اس نے کر لیا ہے تو خزانہ میں جمع کروایا جائے جس کے وہ پیسے ہیں اپنی کسی ضرورت پر اسے صرف نہیں کر سکتا اور نہ ہی کسی کی ضرورت پر صرف کر سکتا ہے کیونکہ سود حرام ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَحَرَّمَ الرِّبٰوا﴾ [البقرۃ:۲/۲۷۵][’’اور حرام کیا سود کو‘‘]