کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 494
کِتَابُ البیوع…تجارت کے مسائل س: جمعہ والے دن جمعہ سے پہلے کاروبار کرنا کیسا ہے ؟حرام ہے یا ناجائز ہے؟ (محمد خالد نگری بالا ایبٹ آباد) ج: اللہ تعالیٰ کا حکم ہے: ﴿ ٰٓیاََیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ اِِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنْ یَوْمِ الْجُمُعَۃِ فَاسْعَوْا اِِلٰی ذِکْرِ ا للّٰه وَذَرُوا الْبَیْعَ ذٰلِکُمْ خَیْرٌ لَّکُمْ اِِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَo﴾ [الجمعۃ:۶۲/۹] [’’اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو جب جمعہ کے دن نماز کی اذان دی جائے تو تم اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو اور خرید و فروخت چھوڑ دو۔‘‘] پتہ چلا کہ اذان تک کاروبار کر سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشادِ گرامی ہے: ﴿فَاِِذَا قُضِیَتِ الصَّلٰوۃُ فَانتَشِرُوْا فِی الْاَرْضِ وَابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰہِ﴾ [الجمعۃ:۶۲/۱۰] [’’ پھر جب نماز ہو چکے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو۔‘‘ ] ثابت ہوا کہ جمعہ سے فارغ ہونے کے بعد بھی کاروبار کر سکتا ہے۔ ۳/۱؍۱۴۲۱ھ [’’اور جو سبت(ہفتہ) کا دن ہے وہ صرف ان لوگوں پر مسلط کیا گیا جنہوں نے اس بارے میں اختلاف کیا تھا۔‘‘ ] [النحل:۱۲۴] [مسلمانوں کی طرح یہودیوں کو بھی جمعہ کے دن کی تعظیم کا حکم دیا گیا تھا مگر یہودیوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے جمعہ کے دن تخلیق کائنات مکمل کی اور ہفتہ کے دن آرام کیا لہٰذا ہم بھی ہفتہ کے دن چھٹی کیا کریں گے اللہ تعالیٰ کے متعلق آرام کا تصور انتہائی گمراہ کن اور بے اصل تھا ۔ چنانچہ ان کی ضد کی وجہ سے ان کے لیے ہفتہ کا دن مقرر ہوا اور اس میں سختی کی گئی کہ اس دن کوئی کاروبار نہ کریں بلکہ سارا دن صرف عبادت ہی کریں ۔ (تیسیر القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی ؒ)] س: جو رقم زمین سے ملے اس کو مسجد میں لگائیں یا اپنے پاس رکھیں اور گم شدہ چیز کا کیا حکم ہے؟ (سہیل سلیم یونان) ج: دفن شدہ مال ملے جو زمانۂ قدیم کا دفینہ ہے یا اس کا مالک معلوم نہیں تو پانچواں حصہ بیت المال میں جمع