کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 490
پھر پہلے خاوند کے پاس رہے۔ ] ۳ ؍ ۱۱ ؍ ۱۴۲۵ھ س: بِسْمِ ا للّٰه الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ط﴿فَاسْئَلُوْا اَھْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ o﴾ اللہ احکم الحاکمین کا واسطہ دیتا ہوں میرے سوال کا جواب صحیح اور جلد دیں میں بہت پریشان ہوں مسئلہ چھپانے پر جہنم کی آگ کا طوق پہنایا جائے گا۔ (حدیث) جوابی لفافہ ہمراہ ہے۔ ایک دکھی انسان کا علماء کرام سے ایک ضروری سوال اللہ تعالیٰ کے لیے جہاد کرنے والو! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین کہ میں نے غصہ میں آکر اپنی بیوی کو ایک مجلس میں تین طلاقیں دی ہیں ۔ لوگوں کے پوچھنے پر پھر میں نے تین طلاقوں کو دہرایا ہے کہ میں نے ایک مجلس میں تین طلاقیں دی ہیں ۔ میرے دو بچے ہیں ۔ بیوی حاملہ ہے۔ اب میں سخت پریشان ہوں ، میری بیوی ، بچے بھی پریشان ہیں ۔ قرآن وحدیث کی روشنی میں کیا ہم رجوع کرسکتے ہیں یا نہیں ؟ بعض علماء کہتے ہیں کہ رجوع کرسکتے ہو۔ تمہاری بیوی حرام نہیں ہوئی۔ کیونکہ فرمانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق تمہاری تین طلاقیں ایک طلاق ہی شمار ہوگی۔ اور بعض علماء کہتے ہیں کہ اب تمہاری بیوی حرام ہوگئی۔ حلالہ کراؤ، کسی دوسرے مرد سے۔ ایک مفتی نے کہا حلالہ میں کرلوں گا۔ حلالہ کے بغیر رجوع کیا تو میں تمہارا بائیکاٹ کرواؤں گا۔ میں نے سنا ہے کہ حلالہ کرنے اور کروانے والے پر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی ہے۔ مجھے معلوم ہے یہ لعنت والا کام دشمن صحابہ رضی اللہ عنہم شیعہ کا ہے، جو متعہ کرتے ہیں ۔ یہ ملعون کام حلالہ میں ہرگز نہیں کروں گا، خواہ میری پیاری بیوی مجھے ملے یا نہ ملے۔ علماء کرام قرآن و سنت کی روشنی میں جواب دے کر اللہ کریم سے اجر حاصل کریں ۔ میری گزارش ہے کہ اپنے اپنے پیروں ، مولویوں اور اماموں کے فتوے نہ دینا، بلکہ شریعت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ بتائیں تاکہ میری بیوی ، بچے گھر آجائیں اور رب کریم میری پریشانی دور فرمائے۔ آمین۔ ج: طلاق کی جو صورت آپ نے لکھی اس صورت میں ایک طلاق واقع ہوچکی ہے۔ صحیح مسلم میں حدیث ہے: عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : (( کَانَ الطَّلاَقُ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ ا للّٰه صلی ا للّٰه علیہ وسلم ، وَأَبِیْ بَکْرٍ ، وَسَنَتَیْنِ مِنْ خِلاَفَۃِ عُمَرَ طَلاَقُ الثَّلاَثِ وَاحِدَۃً ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: إِنَّ النَّاسَ قَدِ اسْتَعْجَلُوْا فِی أَمْرٍ کَانَتْ لَھُمْ فِیْہِ أَنَاۃٌ ، فَلَوْ أَمْضَیْنَاہُ عَلَیْھِمْ ، فَأَمْضَاہُ عَلَیْھِمْ۔)) (۱؍۴۷۷۔۴۷۸) [ ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابو بکر صدیق اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ابتدائی دو سالوں میں اکٹھی تین طلاقیں ایک ہی