کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 487
نقل کرتے وقت بھی ’’ تین طلاق ‘‘ کے لفظ بولے اور اپنی بات کرتے وقت بھی ’’ تین طلاق ‘‘ کے لفظ بولے ہیں جبکہ آپ کو بھی علم ہے کہ آپ ’’ بیک وقت تین طلاق ‘‘ کے وقوع کے اثبات کے درپے ہیں ۔ جیسا کہ آپ کی پہلی نسائی والی روایت کے ذکر میں ’’ بیک وقت تین طلاقیں ‘‘ کے لفظ گزر چکے ہیں ۔ پھر بخاری والی ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی یہ روایت آپ نے کتاب الطلاق سے نقل فرمائی ہے اور یہ روایت امام صاحب نے اس مقام پر بطریق قاسم بن محمد مختصراً ذکر کی ہے ، جبکہ امام صاحب نے ہی اسی حدیث کو کتاب الادب ؍ باب التبسم والضحکمیں بطریق عروہ بن زبیر مفصلاً بیان فرمایا ہے اور اس میں یہ لفظ ہیں : (( فطلقھا آخر ثلاث تطلیقات۔)) تو اس نے اس کو تین طلاقوں سے آخری طلاق دے دی۔ تو اس تفصیلی روایت سے ثابت ہوا کہ اس بیگم کو تین طلاقیں بیک وقت نہیں ملی تھیں ۔ لہٰذا آپ کا موقف ’’ بیک وقت دی ہوئی تین طلاقیں تین ہی واقع ہوجاتی ہیں ۔ ‘‘ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی اس حدیث سے بھی ثابت نہیں ہوتا۔ لہٰذا مخالفین کا طعنہ کہ ’’ آپ بخاری کو بھی نہیں مانتے ‘‘ خواہ مخواہ اور بلاوجہ ہے۔ اگر کوئی صاحب فرمائیں کہ قاسم والی روایت اور عروہ والی روایت اور ہے تو پھر ان کے ذمہ ہے کہ قاسم والی روایت میں (( طلق امرأۃ ثلاثا۔)) کے لفظ سے بیک وقت تین طلاقیں مراد ہونے کی دلیل پیش فرمائیں ۔ باقی اس روایت کا لحاظ (( فتزوجت ، فطلق، فسئل النبی صلی ا للّٰه علیہ وسلم أتحل للأول؟ قال: لا۔)) الخ اس بات کی دلیل نہیں کیونکہ تین طلاقیں جدا جدا ہوں تو یہی حکم ہے جبکہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ والی حدیث ہمیں بتارہی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں تین طلاقیں ایک ہوتی تھیں ۔ اور یہ’’ طلق امرأۃ ثلاثا ‘‘میں تین طلاقیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد کی ہی ہیں ۔ لہٰذا یہ تین جدا جدا تھیں ورنہ لحاق میں بیان شدہ حکم درست نہیں رہتا۔ واللہ اعلم۔ ۲۲ ؍ ۱۲ ؍ ۱۴۲۱ھ س: 1۔زید نے اپنی بیوی کو ایک طلاق دی اور عدت گزر گئی ۔ کیا اس صورت میں زید کی مطلقہ بیوی نکاح کرسکتی ہے؟ (ابوطلحہ محمد اصغر) 2۔دو طلاقیں زید نے اپنی بیوی کو دو طہروں میں دیں دوسری طلاق کے بعد رجوع کے لیے کتنا وقت باقی ہے؟ ج: 1۔ ہاں ! اس صورت میں مطلقہ بیوی کا اپنے خاوند سے نکاح درست ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآئَ فَبَلَغْنَ أَجَلَھُنَّ فَـلَا تَعْضُلُوْھُنَّ أَنْ یَّنْکِحْنَ أَزْوَاجَھُنَّ إِذَا تَرَاضَوْا بَیْنَھُمْ بِالْمَعْرُوْفِ ط﴾ [البقرۃ:۲۳۲] [’’ اور جب تم اپنی عورتوں کو طلاق دو اور وہ اپنی عدت پوری کرلیں تو انہیں ان کے خاوندوں