کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 485
ج: 1۔ اس روایت کے متعلق التعلیقات السلفیہ میں لکھا ہے: (( حدیث محمود ابن لبید ھذا رجالہ ثقات لکن محمود ولد فی عہد النبی صلی ا للّٰه علیہ وسلم ولم یثبت منہ سماع ، وقد قال النسائی (یعنی فی الکبری) بعد تخریجہ: لا أعلم أحدا رواہ غیر مخرمۃ بن بکیر یعنی ابن الأشج عن أبیہ ۱۰ھ۔ وروایۃ مخرمۃ عن أبیہ عند مسلم فی عدۃ أحادیث ، وقد قیل: إنہ لم یسمع من أبیہ۔ کذا فی الفتح۔)) [(۱۶۳ ؍ ج:۵) ۱۰ھ (۲؍۸۹)] محدّثِ وقت شیخ البانی .....رحمہ اللہ تعالیٰ .....نے اس روایت کو صحیح سنن نسائی میں جگہ نہیں دی۔ اگر اس روایت کو صحیح ہی تسلیم کرلیا جائے تو بھی اس سے صرف اور صرف بیک وقت تین طلاق دینے کا عدم جواز نکلے گا بیک وقت تین طلاق کا تین ہی واقع ہونا اس سے بالکل نہیں نکلتا غور فرمالیں ۔ 2۔اس روایت کے متعلق مصنف عبدالرزاق کے محشی و محقق لکھتے ہیں : (( وإبراھیم بن عبید ا للّٰه ذکرہ ابن حجر فی اللسان ، ونقل عن الدار قطنی أنہ ضعیف ، وقال مرۃ: مجھول۔ وأما داؤد بن عبادۃ فلم أجد أحدا ذکرہ۔)) [۱۰ھ (۶؍۳۹۳)] امام دار قطنی .....رحمہ اللہ تعالیٰ .....اس روایت کو ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں : (( رواتہ مجھولون وضعفاء إلا شیخنا وابن عبدالباقی ۱۰ھ (۴؍۲۰)۔)) غور فرمائیں اس روایت کے کمزور ہونے میں آیا رہ گئی ہے کوئی کسر باقی؟ 3۔اس روایت کے متعلق التعلیق المغنی میں لکھا ہے: (( فی إسنادہ عطاء الخراسانی ، وھو مختلف فیہ ، وقد وثقہ الترمذی ، وقال النسائی وأبو حاتم: لا بأس بہ۔ وضعفہ غیر واحد ، وقال البخاری لیس فیمن روی عنہ مالک من یستحق الترک غیرہ۔ وقال شعبۃ: کان نسیا۔ وقال ابن حبان: من خیار عباد ا للّٰه غیر أنہ کان کثیر الوھم سیٔ الحفظ یخطیٔ ولا یدری ، فلما کثر ذلک فی روایتہ بطل الاحتجاج بہ۔ وأیضا الزیادۃ التی ھی محل الحجۃ أعنی قولہ: لوطلقہا الخ۔ مما تفرد بہ عطاء ، وخالف فیہ الحفاظ ، فإنھم شارکوہ فی أصل الحدیث ، ولم یذکروا الزیادۃ۔ وأیضا فی إسنادہ شعیب بن رزیق الشامی وھو ضعیف۔ کذا فی النیل ، وذکرہ عبدالحق فی أحکامہ بھذا السند، وأعلہ بمعلی بن منصور، وقال: رماہ أحمد بالکذب۔ ولم یعل البیہقی ھذا السند إلا بعطاء