کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 484
اللہ تعالیٰ کے دونوں قول: ’’ اَلطَّـلَاقُ مَرَّتَانِ ‘‘ اور ’’ فَإِنْ طَلَّقَھَا ‘‘دونوں صورتوں رجوع اور عدم رجوع کو متناول و شامل ہیں ۔ تو صورتِ مسؤلہ میں عورت اپنے خاوند کے لیے حلال نہیں ۔ ﴿حَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہٗ فَإِنْ طَلَّقَھَا فَـلَا جُنَاحَ عَلَیْھِمَا أَنْ یَّتَرَاجَعَآ إِنْ ظَنَّا أَنْ یُّقِیْمَا حُدُوْدَ ا للّٰه ط﴾ [البقرۃ:۲۳۰] [ ’’ اور وہ اسے طلاق دے ، اگر پہلا خاوند اور یہ عورت دونوں یہ خیال کریں کہ حدودِ الٰہی پر قائم رہیں گے تو ان کے لیے ایک دوسرے کی طرف رجوع کرلینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔‘‘ ] ۲۳ ؍ ۶ ؍ ۱۴۲۳ھ س: 1۔ نسائی میں روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی گئی کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو بیک وقت 3 طلاقیں دی ہیں ۔ آپ نے فرمایا: ’’ کیا اللہ کی کتاب کے ساتھ کھیل کھیلا جارہا ہے؟ حالانکہ میں تمہارے درمیان موجود ہوں ۔‘‘ 2۔عبدالرزاق نے عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے متعلق روایت نقل کی ہے کہ ان کے والد نے اپنی زوجہ کو 1000 طلاق دے ڈالیں ۔ آپ سے مسئلہ دریافت کیا گیا۔ آپ نے فرمایا: ’’ تین طلاقوں کے ذریعے سے تو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے ساتھ وہ عورت اس سے جدا ہوگئی اور 997 ظلم اور عدوان کے طور پر باقی رہ گئے۔ 3۔دار قطنی میں ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کو جب رجوع کا حکم دیا گیا تو انہوں نے آپؐ سے پوچھا کہ اگر میں اس کو 3 طلاق دے دیتا تو کیا، پھر بھی میں رجوع کرسکتا تھا؟ حضور نے جواب دیا: ’’ لا۔‘‘ (۱)۔ ان احادیث کے مقابلے میں مسلم میں ابن عباس کا اثر کیا وقعت رکھتا ہے؟ 4۔ حدیث رکانہ بن عبد یزید ابو داؤد میں نقل کی گئی ہے کہ رکانہ نے جب ایک ہی مجلس میں اپنی بیوی کو تین طلاق دیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حلف دے کر پوچھا کہ کیا اس کی نیت ایک طلاق ہی کی تھی۔ جب رکانہ نے حلفاً بیان دیا کہ میری نیت ایک ہی طلاق دینے کی تھی تو اس وقت آپؐ نے اسے رجوع کا حکم دیا۔ 5۔صحیح بخاری میں عویمر عجلانی کا واقعہ ذکر ہے، پس انہوں نے قبل اس کے کہ آنحضرت اسے حکم دیتے اپنی بیوی کو تین طلاق دے دیں ۔ 6۔ امام بخاری نے حضرت عائشہ سے ایک حدیث نقل کی ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاق دے دیں ۔ آنحضرت سے پوچھا گیا کہ کیا وہ عورت اسی شخص سے نکاح کرسکتی ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’ نہیں ۔ یہاں تک کہ وہ کسی دوسرے شخص سے شادی ، صحبت ، طلاق کے بعد پہلے شخص سے شادی کرے۔‘‘ گویا تین طلاق واقع ہوگئی تھیں ۔ مخالفین طعنہ دیتے ہیں کہ آپ بخاری کو بھی نہیں مانتے؟ (اللہ دتہ)