کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 483
منع کرو ان کو یہ کہ نکاح کریں ، خاوندوں اپنے سے جب راضی ہوں ، آپس میں ساتھ اچھی طرح کے۔ ‘‘ ] چونکہ صورتِ مسؤلہ میں دی ہوئی طلاق دوسری طلاق ہے۔ لہٰذا عدت کے اندر رجوع بلا نکاح اور عدت کے بعد رجوع بنکاح شرعاً درست ہے۔ واللہ اعلم۔ ۲ ؍ ۱۰ ؍ ۱۴۲۲ھ س: ایک آدمی بغیر رجوع کیے تین طلاقیں تین ماہ میں دیتا ہے۔ اب کیا رجوع کی کوئی صورت ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ ہر طلاق ایک ایک ماہ بعد دی گئی ہے۔ ج: صورتِ مسؤلہ میں ذکر کردہ تین طلاقیں اگر عدت کے اندر ہیں تو تینوں واقع ہوچکی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:’’ اَلطَّـلَاقُ مَرَّتَانِ ‘‘الآیۃ۔ یہ فرمان دو طلاقوں کے درمیان رجوع والی اور دو طلاقوں کے درمیان عدم رجوع والی دونوں صورتوں کو متناول و شامل ہے اور دونوں صورتوں میں دونوں طلاقوں کے جواز اور نفاذ پر دلالت کرتا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کا قول: ’’ فَإِنْ طَلَّقَھَا ‘‘الخ۔ بھی طلاق دینے کی دونوں صورتوں کو متناول و شامل ہے۔ لہٰذا صورتِ مسؤلہ میں اگر تینوں طلاقیں عدت کے اندر دی گئی ہیں تو میاں اپنی بیوی سے عدت کے اندر رجوع نہیں کرسکتا۔ اور عدت کے بعد اس کے ساتھ نیا نکاح نہیں کرسکتا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿فَـلَا تََحِلُّ لَہُ مِنْ بَعْدُ حَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہٗ ط﴾ الآیۃ۔ واللہ اعلم۔ ۲۴ ؍ ۵ ؍ ۱۴۲۳ھ س: ایک آدمی نے اپنی بیوی کو سات آٹھ سال پہلے طلاق دی۔ ایک ماہ گزرنے کے بعد پھر دوسری طلاق بھیج دی۔ ایک ماہ پھر گزرنے پر تیسری طلاق بھیج دی اور پہلی طلاق دینے کے بعد اس نے اپنی بیوی سے رجوع بھی نہیں کیا۔ اس عورت نے اب تک کہیں دوسرا نکاح نہیں کیا ، اب وہ دونوں رجوع کرنا چاہتے ہیں کیا قرآن و حدیث میں اس کی اجازت ہے؟ (محمد یونس شاکر ، نوشہرہ ورکاں ) ج: آپ کی مسؤلہ صورت میں تینوں طلاقیں واقع ہوچکی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿اَلطَّـلَاقُ مَرَّتٰنِ فَإِمْسَاکٌ بِمَعْرُوْفٍ أَوْ تَسْرِیْحٌ بِإِحْسَانٍ﴾ [البقرۃ:۲۲۹] [ ’’ طلاق (رجعی) دو مرتبہ ہے ، پھر یا تو اچھائی سے روکنا ہے یا عمدگی کے ساتھ چھوڑ دینا ہے۔‘‘ ] ان دوطلاقوں کے درمیان اللہ تعالیٰ نے رجوع کی شرط نہیں لگائی۔ پھر فرمایا: ﴿فَإِنْ طَلَّقَھَا فَـلَا تَحِلُّ لَہٗ مِنْ بَعْدُ حَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہٗ﴾ [البقرۃ:۲۳۰] [ ’’ اگر (کسی شوہر نے اپنی بیوی کو تیسری) طلاق دے دی تو وہ عورت پھر اس کے لیے حلال نہ ہوگی، الاَّ یہ کہ اس کا نکاح کسی دوسرے شخص سے ہو۔ ‘‘ ] دو کے بعد اور تیسری سے پہلے بھی رجوع کی شرط کہیں وارد نہیں ہوئی۔ لہٰذا