کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 482
کرسکتی ہے۔ ۱۰ ؍ ۱۱ ؍ ۱۴۲۰ھ س: ایک آدمی نے اپنی بیوی کو پہلی مرتبہ تین طلاقیں اکٹھی دے دی تھیں ۔ اس کے ایک سال بعد لڑکے والوں کے ساتھ صلح کرلی تھی۔ اور اس کے دو سال بعد دوبارہ پھر اس نے تین طلاقیں اکٹھی دے دی تھیں ۔ طلاق دینے کے بعد تین سال گزرگئے ہیں اور اب پھر لڑکے والے لڑکی والوں سے دوبارہ رشتہ بحال کرنا چاہتے ہیں ؟ ج: صورتِ مسؤلہ میں دو طلاقیں واقع ہوچکی ہیں ۔ کیونکہ اکٹھی تین طلاقیں ایک ہوتی ہیں ۔ صحیح مسلم ؍ جلد اول ؍ ص: ۴۷۷ میں ہے: ’’ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دونوں دوروں میں اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دور کے ابتدائی دو سالوں میں تین طلاقیں ایک ہوا کرتی تھیں ۔ الحدیث۔ پہلی اور دوسری کے بعد عدت کے اندر رجوع بلا نکاح درست ہے۔ وَبُعُوْلَتُھُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّھِنَّ فِیْ ذٰلِکَ اِنْ اَرَادُوْا اِصْلَاحًااور عدت کے بعد نیا نکاح صحیح ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآئَ فَبَلَغْنَ أَجَلَھُنَّ فَـلَا تَعْضُلُوْھُنَّ أَنْ یَّنْکِحْنَ أَزْوَاجَھُنَّ إِذَا تَرَاضَوْا بَیْنَھُمْ بِالْمَعْرُوْفِ ط﴾ [البقرۃ:۲۳۱] ۹ ؍ ۱۲ ؍ ۱۴۲۳ھ س: ایک آدمی نے کچھ عرصہ پہلے اپنی بیوی کو ایک طلاق دی۔ دس دن کے بعدان کی صلح ہوگئی۔ دوبارہ کچھ عرصہ گزرنے کے بعد ان میں دوبارہ جھگڑاہوا تو اس نے اپنی بیوی کوتین طلاقیں ایک ہی نوٹس میں بھیج دیں ۔ اب تین طلاقوں کو دیئے ہوئے ساڑھے چار ماہ گزرچکے ہیں ۔ کیاقرآن و حدیث کی روشنی کے مطابق نکاح ہوسکتا ہے؟ ج: صورتِ مسؤلہ میں اس آدمی نے اپنی بیوی کو ایک طلاق دینے کے بعد عدت کے اندر صلح و رجوع کرلینے کے بعد یکمشت تین طلاقیں دے دیں جو شریعت میں ایک طلاق شمار ہوتی ہے۔ چنانچہ صحیح مسلم ؍ جلد اول؍ صفحہ نمبر: ۴۷۷ میں ہے: ’’ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : تین طلاقیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ایک طلاق ہوتی تھی۔ ‘‘ الحدیث۔ اور پہلی رجعی طلاق اور دوسری رجعی طلاق کے بعد عدت کے اندر رجوع بلا تجدید نکاح درست ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَبُعُوْلَتُھُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّھِنَّ فِیْ ذٰلِکَ إِنْ أَرَادُوْا إِصْلَاحًا ط﴾ [البقرۃ:۲۲۸] [ ’’ ان کے خاوند اگر موافقت چاہیں تو اس (مدت) میں وہ ان کو اپنی زوجیت میں لینے کے زیادہ حقدار ہیں ۔‘‘ ] اور عدت کے بعد رجوع بتجدید نکاح درست ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآئَ فَبَلَغْنَ أَجَلَھُنَّ فَـلَا تَعْضُلُوْھُنَّ أَنْ یَّنْکِحْنَ أَزْوَاجَھُنَّ إِذَا تَرَاضَوْا بَیْنَھُمْ بِالْمَعْرُوْفِ ط﴾ [البقرۃ:۲۳۲] [ ’’ اور جب طلاق دو تم عورتوں کو پس پہنچیں اپنی عدت کو پس مت