کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 478
سے نہ روکو۔ جبکہ وہ آپس میں دستور کے مطابق رضا مند ہوں ۔ ‘‘ ] ظاہر ہے تاریخ طلاق ۴ ؍ ۹ ؍ ۹۹ء کے بعد تین ماہواریاں گزرنے پر عدت ختم ہوچکی تھی۔ لہٰذا اب کے طلاق دہندہ اپنی بیوی کے ساتھ نیا نکاح کرسکتے ہیں ۔ بدلیل آیۃ مذکورہ بالا۔ رہی ۱۲ ؍ ۸ ؍ ۲۰۰۰ء کو دی ہوئی طلاق تو وہ عدت کے بعد ہونے کی بناء پر کالعدم ہے۔ لہٰذا صورتِ مسؤلہ میں خاوند اپنی بیوی کے ساتھ نکاح کرکے اپنا گھر آباد کرسکتا ہے۔ واللہ اعلم۔ ۲۳ ؍ ۴ ؍ ۱۴۲۳ھ س: ایک آدمی نے اپنی بیوی کو طلاق نہیں دی اور نہ طلاق دینے کی نیت ہے۔ وہ آدمی کسی سے جھوٹ کہتا ہے کہ میں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہے تو کیا اس طرح کہنے سے طلاق ہوجائے گی یا نہیں ؟ (عبدالغفور) ج: صورتِ مسؤلہ اگر اکراہ و جبر کی صورت ہے تو پھر طلاق نہیں ہوئی۔ کیونکہ جبر و اکراہ والی طلاق نہیں ہوتی۔ [ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اللہ تعالیٰ نے میری امت سے خطا بھول اور جس پر اسے مجبور کیا گیا ہو معاف فرمادیا ہے۔‘‘] اگر صورتِ مسؤلہ ہزل و مذاق کی صورت ہے تو پھر طلاق واقع ہوچکی ہے۔ کیونکہ جامع ترمذی اور سنن ابی داؤد میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( ثَلاَثٌ جِدُّھُنَّ جِدٌّ ، وَھَزْلُھُنَّ جِدُّ النِّکَاحُ ، وَالطَّلاَقُ ، وَالرَّجْعَۃُ)) [ ’’ تین کام ایسے ہیں کہ ان کی حقیقت بھی حقیقت ہے اور ان کا مذاق بھی حقیقت ہے۔ نکاح .....طلاق .....رجوع۔‘‘ ] [1] امام ترمذی فرماتے ہیں : (( ھٰذَا حَدِیثٌ حَسَنٌ غَرِیْبٌ)) بہر حال یہ حدیث حسن لغیرہ تو ضرور ہے۔ واللہ اعلم۔ ۱۰ ؍ ۷ ؍ ۱۴۲۳ھ س: اگر کوئی آدمی تنہائی میں اکیلا ہی یہ کہہ دے کہ میں نے اپنی بیوی کو طلاق دی، کیا طلاق ہوجائے گی؟ (محمد یونس شاکر) ج: ہاں ! طلاق ہوجائے گی۔ واللہ اعلم۔ س:1۔ طلاق اور فسخ نکاح میں کیا فرق ہے؟ 2۔فسخ نکاح کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ (محمد حسین ، کراچی)۔ ج: 1۔طلاق صرف خاوند یا اس کا وکیل ہی دے سکتا ہے، جبکہ فسخ نکاح اکثر حکومت یا اس کے وکیل کے اختیار [1] ابو داؤد ؍ کتاب الطلاق ؍ باب فی الطلاق علی الھزل ، ابن ماجہ ؍ باب من طلق اونکح اوراجع لاعباً ، ترمذی ؍ ابواب الطلاق ؍ باب فی الجد والھزل فی الطلاق