کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 475
والدہ یا دادی کا دودھ نہ پیا ہو اور نہ کوئی ایسی رشتہ دار نسبی یا رضاعی یا کوئی اوراس کے ساتھ ہو ، جس کی وجہ سے ان کا باہمی نکاح حرام بنتا ہو۔ واللہ اعلم۔ ۲۷ ؍ ۲ ؍ ۱۴۲۲ھ س: ایک بچی نے ایک عورت کا دودھ تین مرتبہ پیا ہے کیا اس بچی کا نکاح اس عورت کے بیٹے کے ساتھ ہوسکتا ہے؟ ج: سوال میں مذکور صورت اگرفی الواقع درست ہے تو اس بچی کا دودھ پلانے والی عورت کے بیٹے کے ساتھ نکاح درست ہے بشرطیکہ اس بچی اور اس بیٹے کا آپس میں کوئی اور محرم نکاح رشتہ موجود نہ ہو کیونکہ صحیح مسلم میں ہے: ’’ پانچ رضعات سے حرمت رضاعت ثابت ہوتی ہے۔‘‘ (ج:۱ ، ص:۴۶۹)اور مذکورہ بالا صورت مسؤلہ میں صرف تین رضعات ہیں جو محرم نہیں ۔ واللہ اعلم س: زید اور بکر آپس میں رضاعی بھائی ہیں ۔ زید کا ایک بڑا بھائی عمر ہے، اسی طرح بکر کا ایک چھوٹا بھائی ظفر ہے۔ کیا عمر کی بیٹی سے ظفر کا نکاح درست ہے؟ ہر دو صورت میں دلائل درکار ہیں ؟ (حبیب الرحمن، ہری پوری ہزارہ) ج: صورتِ مسؤلہ میں عمر کی لڑکی ظفر کی بھتیجی نہیں نہ نسبی اور نہ ہی رضاعی ، خواہ زید کی والدہ نے بکر کو دودھ پلایا ہو خواہ بکر کی والدہ نے زید کو۔ لہٰذا ظفر کا عمر کی لڑکی کے ساتھ نکاح درست ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَأُحِلَّ لَکُمْ مَّا وَرَآئَ ذٰلِکُمْ ط﴾ [النساء:۲۴] [ ’’ اور ان عورتوں کے سوا اور عورتیں تمہارے لیے حلال کی گئیں ۔ ‘‘ ] الا کہ کوئی اور رشتہ نسبی یا رضاعی یا سببی نکل آئے ، جس کی بناء پر عمر کی لڑکی کا ظفر کے ساتھ نکاح حرام ہوجاتا ہے تو پھر یہ نکاح درست نہیں ہوگا۔ واللہ اعلم۔ ۱۹ ؍ ۱۱ ؍ ۱۴۲۱ھ س: محرم کا معنی ہم نے ہر جگہ یہی پڑھا ہے کہ جس سے نکاح ہمیشہ کے لیے حرام ہو۔ کیا محرم کا یہ مفہوم درست ہے؟ محرم کا اس سے صحیح مفہوم کیا ہے؟ (وقار علی ، لاہور) ج: یہ معنی صحیح نہیں ، کیونکہ ایک عورت کا دوسری عورت کے ساتھ نکاح ہمیشہ کے لیے حرام ہے ۔ خواہ اجنبی ہو، حالانکہ ہر ایک عورت ہر دوسری عورت کے لیے محرم نہیں ۔ اسی طرح ایک مرد کا دوسرے مرد کے ساتھ نکاح ہمیشہ کے لیے حرام ہے۔ حالانکہ ہر مرد ہر مرد کے لیے محرم نہیں ۔ باقی محرم کی تعریف کتاب و سنت سے تو وہ مجھے معلوم نہیں ۔ ۶ ؍ ۴ ؍ ۱۴۲۴ھ ٭٭٭