کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 474
ج: 1۔ مدت رضاعت بچے کی عمر دو سال کے اندر اندر پی سکتا ہے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَالْوَالِدَاتُ یُرْضِعُنَ اَوْلَادَھُنَّ حَوْلَیْنِ کَامِلَیْنِ لِمَنْ أَرَادَ أَنْ یُّتِمَّ الرَّضَاعَۃ ط﴾ [البقرۃ:۲۲۳] [’’ مائیں اپنی اولاد کو دو سال کامل دودھ پلائیں ۔ ‘‘ ] 2۔صحیح ہے ہی نہیں ۔ لہٰذا کہاں تک صحیح والا سوال بنتا ہی نہیں ۔ پھر دیکھئے: ﴿لِمَنْ أَرَادَ أَنْ یُّتِمَّ الرَّضَاعَۃَ ط﴾ [ ’’ جن کا ارادہ دودھ پلانے کی مدت پوری کرنے کا ہو۔‘‘ ] سے یہ بات نکلتی ہے جو اتمام رضاعت کا ارادہ نہیں رکھتا ، اسے حق حاصل ہے کہ دو سال سے پہلے ہی دودھ چھڑادے چنانچہ دوسرے فرمان میں ہے: ﴿فَإِنْ أَرَادَ فِصَالًا عَنْ تَرَاضٍ مِّنْھُمَا وَتَشَاوُرٍ فَـلَا جُنَاحَ عَلَیْھِمَا ط﴾ [ ’’ پھر اگر دونوں اپنی رضا مندی اور باہمی مشورہ سے دودھ چھڑانا چاہیں تو دونوں پر کچھ گناہ نہیں ۔ ‘‘ ] بلکہ بچہ جننے والی ماں کا دودھ ایک دن بھی نہ پیے دوسرا دودھ پی لے تو شرعاً درست ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَإِنْ أَرَدْتُّمْ أَنْ تَسْتَرْضِعُوْآ أَوْلَادَکُمْ فَـلَا جُنَاحَ عَلَیْکُمْ إِذَا سَلَّمْتُمْ مَّآ اٰتَیْتُمْ بِالْمَعْرُوْف ط﴾ [البقرۃ:۲۳۳] [ ’’ اور اگر تمہارا ارادہ اپنی اولاد کو دودھ پلوانے کا ہو تو بھی تم پر کوئی گناہ نہیں ، جبکہ تم ان کو مطابق دستور کے جو دینا ہو وہ ان کے حوالے کردو۔‘‘ ] ان احکام کی روشنی میں ’’ ثَلٰثُوْنَ شَھْرًا ‘‘ والی آیت کریمہ پر غور فرمائیں ، تو یہ گولیوں والا استدلال گولی زدہ ہوجائے گا۔ ان شاء اللہ تبارک وتعالیٰ۔ ۲۸ ؍ ۱ ؍ ۱۴۲۲ھ س: رضاعت کی آخری حد کتنی ہے۔ حاملہ عورت بچے کو دودھ پلاسکتی ہے؟ (ابو ضماد، شیخوپورہ) ج: رضاعت کی مدت دو سال [﴿وَالْوَالِدَاتُ یُرْضِعْنَ اَوْلَادَھُنَّ حَوْلََیْنِ کَامِلَیْنِ ط﴾ [البقرۃ:۲۳۳] [ ’’ مائیں اپنی اولادوں کو دو سال کامل دودھ پلائیں ۔ ‘‘ ] اور مقدارپانچ رضعات ہے۔ [عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ: ’’ قرآن میں اترا تھا کہ دس بار چوسنا دودھ کا حرمت کرتا ہے۔ پھر منسوخ ہوگیا اور یہ پڑھا گیا کہ پانچ بار دودھ چوسنا حرمت کا سبب ہے۔ ‘‘ ] [1] حاملہ عورت بچے کو دودھ پلاسکتی ہے۔ ۲۲ ؍ ۷ ؍ ۱۴۲۱ھ س: منیر نے سجاد کی والدہ کا دودھ پیا جبکہ سجاد نے منیر کی والدہ کا دودھ نہیں پیا۔ تو کیا سجاد منیر کی چھوٹی بہن سے شادی کرسکتا ہے کہ نہیں ؟ قرآن و سنت کی روشنی میں وضاحت فرمائیں ؟ (محمد بشیر ڈرائیور ، تحصیل و ضلع ایبٹ آباد) ج: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (( اَلرَّضَاعَۃُ تُحَرِّمُ مَا تُحَرِّمُ الْوِلاَدَۃُ)) ’’ جو رشتے ولادت و نسب سے حرام ہیں وہ رضاعت و دودھ سے بھی حرام ہیں ۔‘‘ [2] صورتِ مسؤلہ میں سجاد منیر کی چھوٹی بہن یا بڑی بہن کے ساتھ نکاح کرسکتا ہے۔ بشرطیکہ منیر کی بہن نے سجاد کی [1] صحیح مسلم ؍ کتاب الرضاع [2] صحیح بخاری ؍ کتاب النکاح ؍ باب (وَأُمَّھَاتُکُمُ اللاَّتِیْ أَرْضَعْنَـکُمْ)