کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 473
اس جرم کی سزا قتل و موت ہے۔ قرآنِ مجید میں لوط صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کا تذکرہ ہے وہ اس سدومی جرم کا ارتکاب کیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی بستی کو الٹادیا۔ پھر اس پر سجیل ، سنگ گل اور کھنگروں کی بارش برسادی۔ اور انہیں نیست و نابود کردیا۔ صرف اہل ایمان کو اللہ تعالیٰ نے بچایا۔ [ھود:۸۱۔۸۲] [’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کو عمل قوم لوط میں مبتلا پاؤ اسے اور عمل قوم لوط کروانے والے دونوں کو قتل کردو۔‘‘ ] [1] بسم اللّٰه الرحمٰن الرحيم مدتِ رضاعت دو سال ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَالْوَالِدَاتُ یُرْضِعُنَ أَوْلَادَھُنَّ حَوْلَیْنِ کَامِلَیْنِ لِمَنْ أَرَادَ أَنْ یُّتِمَّ الرَّضَاعَۃَ ط﴾ [البقرۃ:۲۳۳] [ ’’ مائیں اپنی اولاد کو دو سال کامل دودھ پلائیں ، جن کا ارادہ دودھ پلانے کی مدت پوری کرنے کا ہو۔‘‘ ] اللہ تعالیٰ ہی فرماتے ہیں : ﴿حَمَلَتْہُ أُمُّہٗ وَھْنًا عَلٰی وَھْنٍ وَّفِصَالُہٗ فِیْ عَامَیْنِط﴾ [لقمان:۱۴] [ ’’ اس کی ماں نے دکھ پر دکھ اٹھا کر اسے حمل میں رکھا اور اس کا دودھ چھڑانا دوبرس میں ہے۔‘‘] مقدارِ دودھ جس سے رضاعی رشتہ ثابت ہوتا ہے پانچ رضعات (پانچ دفعہ دودھ پینا) ہے۔ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : (( نَزَلَ فِی الْقُرْآنِ عَشْرُ رَضْعَاتٍ مَّعْلُوْمَاتٍ ثُمَّ نَزَلَ أَیْضًا خَمْسٌ مَعْلُوْمَاتٌ)) [2] [’’ قرآنِ مجید میں دس بار دودھ چوسنا اترا ، پھر پانچ بار چوسنا اترا۔ ‘‘ ] آیات کریمہ اور احادیث نبویہ کی روشنی میں درست بات یہی ہے کوئی بچہ یا بچی اگر دو سال کے اندر اندر کسی عورت کا دودھ پانچ مرتبہ پی لیتا ہے تو وہ اس کا رضاعی بیٹا یا بیٹی ہے اور دودھ پلانے والی اس کی رضاعی ماں ہے ، دودھ پلانے والی کے بچے دودھ پینے والے بچے کے رضاعی بہن بھائی ہیں وعلی ہذا القیاس دودھ پلانے والی کی بہن دودھ پینے والے کی رضاعی خالہ ہے۔ دودھ پلانے والی کا خاوند جس کا دودھ ہو۔ دودھ پینے والے یا والی کا رضاعی باپ ہے۔ واللہ اعلم۔ اگر دودھ دو سال کے بعد پیا گیا یا پانچ رضعات سے کم پیا گیا خواہ دو سال کے اندر ہی ہو تو دونوں صورتوں میں دودھ پلانے والی اور دودھ پینے والے میں رضاعی رشتہ قائم نہیں ہوگا۔ ۱۱ ؍ ۲ ؍ ۱۴۲۱ھ س: 1۔ ایک بچہ کی مدت رضاعت کے اندر دوسرا بچہ پیدا ہوا تو دوسرے حمل کے دوران یا نفاس کے دوران یا پھر دوسرے بچے کی پیدائش کے بعد پہلا بچہ ماں کا دودھ پی سکتا ہے؟ 2۔﴿وَحَمْلُہٗ وَفِصٰلُہٗ ثَلٰثُوْنَ شَھْرًا﴾ [الأحقاف:۱۵] [ ’’ اس کے حمل کا اور اس کے دودھ چھڑانے کا زمانہ تیس ماہ کا ہے۔ ‘‘ ] سے یہ نکالنا کہ دو سال تک (پیدائش کے بعد) عورت برتھ کنٹرول (دوسرے بچہ کی پیدائش کو روکنے والی) گولیاں استعمال کرسکتی ہے ؟ کہاں تک صحیح ہے؟ (عبداللہ بن ناصر ، پتوکی) [1] صحیح سنن ابن ماجہ للألبانی ؍ الجزء الثانی ، حدیث نمبر: ۲۰۷۵ [2] صحیح مسلم ؍ کتاب الرضاع ؍ ج:۱ ، ح: ۴۶۹