کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 470
ج: ہوسکتی ہے بشرطیکہ توبہ شرائط توبہ پر مشتمل ہو۔ [ریاض الصالحین باب التوبہ میں توبہ کی یہ شرطیں ذکر کی گئی ہیں ، اگر گناہ کا تعلق اللہ سے ہے ، کسی آدمی کا حق اس سے متعلق نہیں ہے، تو ایسے گناہ سے توبہ کی تین شرطیں ہیں : (۱) گناہ کو چھوڑ دے۔ (۲) اپنے اس گناہ پر نادم ہو۔ (۳) پختہ ارادہ کرے کہ آئندہ کبھی یہ گناہ نہیں کرے گا۔ اگر تین شرطوں میں سے ایک شرط بھی پوری نہ ہوئی تو توبہ صحیح نہیں ہوگی۔ اگر اس گناہ کا تعلق کسی آدمی سے ہے تو اس کی چار شرطیں ہیں ۔ تین یہی اور چوتھی یہ کہ وہ صاحب حق کا حق ادا کرے ، اگر کسی کا مال ناجائز طریقے سے لیا ہے تو اسے واپس کرے، کسی پر تہمت وغیرہ لگائی ہے تو اس کی حد اپنے نفس پر لگوائے یا اس سے معافی طلب کرکے اسے راضی کرے۔ اگر کسی کی غیبت کی ہے تو اس کو اس سے معاف کروائے۔] ۱۰ ؍ ۳ ؍ ۱۴۲۲ھ س: ایک کنواری لڑکی کے ہاں نکاح کے چار پانچ ماہ بعد ناجائز بچہ پیدا ہوا ہے، نکاح کے وقت وہ حاملہ تھی ، لیکن اس حمل کا علم اس کے والدین کو اور نہ ہی لڑکے کے والدین کو اور نہ ہی نکاح خواں کو تھا۔ اب وضع حمل کے بعد اس لڑکی کے اقرباء میں سے کوئی قتل کرسکتا ہے یا نہیں ؟ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ نکاح جو حمل کی حالت میں ہوا وہ نکاح باقی ہے یا ختم ہوگیا؟ ج: صورتِ مسؤلہ میں لڑکی کی سزا سو کوڑے اور سال بھر کے لیے علاقہ بدر کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿اَلزَّانِیَۃُ وَالزَّانِیْ فَاجْلِدُوْا کُلَّ وَاحِدٍ مِّنْھُمَا مِائَۃَ جَلْدَۃٍ ط﴾ [النُّور:۲] [ ’’ زنا کار عورت و مرد میں سے ہر ایک کو سو کوڑے لگاؤ۔ ‘‘ ] صحیح مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( اَلْبِکْرُ بِالْبِکْرِ جَلْدُ مِائَۃٍ وَنَفْیُ سَنَۃٍ وَالثَّیِّبُ بِالثَّیِّبِ جَلْدُ مِائَۃٍ وَالرَّجْمُ)) [1] [’’ غیر شادی شدہ جب زنا کرے غیر شادی شدہ سے تو سو کوڑے لگاؤ اور ایک سال کے لیے ملک سے باہر کردو۔ اور شادی شدہ جب شادی شدہ سے زنا کرے تو سو کوڑے لگاؤ اور پھر پتھروں سے مار ڈالو۔‘‘ ] ایسی لڑکی کی سزا قتل نہیں ۔ رہا یہ نکاح تو وہ نہیں ہے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ ط﴾ [المائدۃ:۵][ ’’ اور پاک دامن مسلمان عورتیں حلال ہیں ۔‘‘ ] تو پتہ چلا کہ غیر محصنہ خواہ مؤمنہ ہی ہو حلال نہیں حرام ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَحُرِّمَ ذٰلِکَ عَلَی الْمُؤْمِننِیْنَ ط﴾ [النور:۳] [ ’’ اور ایمان والوں پر یہ حرام کر [1] مسلم ؍ کتاب الحدود ؍ باب حد الزنا