کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 469
ج: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( مَنْ أَتَی امْرَأَتَہٗ وَھِیَ حَائِضٌ فَلْیَتَصَدَّقْ بِدِیْنَارٍ ، أَوْ بِنِصْفِ دِیْنَارٍ)) [’’ جو اپنی بیوی سے حالت حیض میں جماع کرے تو وہ ایک دینار(ایک دینار=۴ ماشہ ۴ رتی۔ ساڑھے چار ماشہ= ۳۷۴ء۴ گرام) یا نصف دینار صدقہ کرے۔‘‘ ] صاحب إرواء الغلیل اس حدیث کے حوالہ جات نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں : (( من طرق عن مقسم عن ابن عباس بہ۔ قلت: وھذا سند صحیح علی شرط البخاری۔ الخ)) (۱ ؍ ۲۱۸)اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَإِذَا تَطَھَّرْنَ فَأْ تُوْھُنَّ مِنْ حَیْثُ أَمَرَکُمُ ا للّٰه ط﴾ [البقرۃ:۲۲۲] [ ’’ ہاں ! جب وہ پاک ہوجائیں تو ان کے پاس جاؤ ، جہاں سے اللہ نے تمہیں اجازت دی ہے۔‘‘ ] ۱۰ ؍ ۱ ؍ ۱۴۲۴ھ س: حسین و جمیل پندرہ یا چودہ سال کے لڑکے دیکھ کر ان کے ساتھ دلی طور پر پیار ہوجاتا ہے۔ اس میں کوئی حرج تو نہیں ۔ وضاحت فرمائیں ؟ ج: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَمَنِ ابْتَغٰی وَرَآئَ ذٰلِکَ فَأُولٰٓئِکَ ھُمُ الْعَادُوْنَ o﴾ [المؤمنون:۷] [’’ اس کے سوا جو اور ڈھونڈیں وہی حد سے تجاوز کرنے والے ہیں ۔‘‘] [ ’’ امام نووی رحمہ اللہ نے ریاض الصالحین میں باب قائم کیا ہے: اجنبی عورت اور بے ریش حسین بچے کی طرف شرعی ضرورت کے بغیر دیکھنا حرام ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ’’ بے شک کان ، آنکھ اور دل ان سب کی بابت باز پرس ہوگی۔ [الإسراء:۳۶]اور فرمانِ الٰہی ہے: ’’ وہ آنکھوں کی خیانت کو اور سینوں میں چھپی باتوں کو جانتا ہے۔‘‘ [غافر:۱۹]] ۱۰ ؍ ۱ ؍ ۱۴۲۴ھ س: زنا کرنا یا صرف لڑکی کی طرف دیکھنا کیا یہ دونوں گناہ برابر ہیں ۔ کیا چھوٹے گناہ نماز پڑھنے اور قرآن پڑھنے سے معاف ہوجاتے ہیں ؟ ج: زنا کبیرہ گناہ ہے اور زنا سے کم کم حرکات صغیرہ گناہوں میں شامل ہیں ۔ نماز روزہ سے صغیرہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿اِنَّ الْحَسَنَاتِ یُذْھِبْنَ السَّیِّاٰتِ ط﴾ [ھود:۱۱۴] [ ’’ یقینا نیکیاں برائیوں کو دور کردیتی ہیں ۔‘‘ ] مگر اس اصول کو صغائر کے ارتکاب کا بہانہ بنانا درست نہیں ۔ دیکھئے توبہ سے گناہ معاف ہوجاتے ہیں ، لیکن توبہ کو گناہوں کے ارتکاب کا بہانہ نہیں بنایا جاسکتا۔ ۶ ؍ ۴ ؍ ۱۴۲۱ھ س: اگر کوئی انسان ساس سے زنا کا مرتکب ہو تو کیا اس کی بیوی اس پر حرام ہوجائے گی؟ (محمد یونس شاکر) ج: نہیں ! کیونکہ حرام حلال کو حرام نہیں بناتا۔ ۶ ؍ ۱ ؍ ۱۴۲۴ھ س: زانی مرد جب توبہ کرلے تو کیا مومنہ عورت سے اس کی شادی ہوسکتی ہے یا نہیں ؟ (قاسم بن سرور)