کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 468
آدمی دوسرے کو حیاء سے منع کررہا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( دَعْہُ فَإِنَّ الْحَیَائَ مِنَ الْاِیْمَان)) [1] [’’چھوڑ دو اسے بے شک حیا ایمان سے ہے۔‘‘] اور ایک اور حدیث میں ہے: (( وَالْحَیَائُ شُعْبَۃٌ مِنَ الْاِیْمَانِ)) نیز ایک اور حدیث میں ہے: (( إِنَّ ا للّٰه حَیِيٌ کَرِیْمٌ)) [2] [’’ بلاشبہ اللہ تعالیٰ حیا والا عزت والا ہے۔‘‘] الخ۔ ۲ ؍ ۳ ؍ ۱۴۲۱ھ س: ایک آدمی کی دو بیویاں ہیں پہلی بیوی سے کافی اولاد ہے ، دوسری شادی کے بعد وہ باقاعدہ ایک رات ایک بیوی کے پاس اور ایک رات دوسری کے پاس رہتا ہے، مگر پہلی بیوی سے میاں بیوی والا معاملہ کرنے سے اجتناب کرتا ہے۔ اس کے مطالبے پر کہتا ہے تمہاری کافی اولاد ہے اور مجھ پر یہ حق واجب بھی نہیں ہے۔ ہاں باری پوری کرنا مجھ پر فرض ہے جو میں پوری کردیتا ہوں ۔ آپ یہ بتائیں کہ کیا اس کا یہ کہنا درست ہے؟ س: صورتِ مسؤلہ میں خاوند کے ذمہ واجب ہے کہ وہ اپنی اس مطالبہ کرنے والی بیوی کا یہ خاص حق بھی ادا کرے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَلَھُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْھِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ وَلِلرِّجَالِ عَلَیْھِنَّ دَرَجَۃٌ وَّاللّٰہُ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ o﴾ [البقرۃ:۲۲۸] [ ’’ نیز عورتوں کے حقوق مردوں پر ہیں ، مناسب طور پر جیسا کہ مردوں کے عورتوں پر البتہ مردوں کو ان پر ایک درجہ حاصل ہے اور اللہ زبردست حکمت والا ہے۔‘‘] ۲۴ ؍ ۱۱ ؍ ۱۴۲۲ھ س: ایک شخص نے اپنی بیوی سے بالکل حیض ختم ہوجانے کے بعد مجامعت کی۔ ابھی بیوی نے غسل حیض نہیں کیا تھا۔ لہٰذا وہ پریشان ہے غالباً اس بارے حدیث بھی ہے، اور اس شخص کے ذمہ 9,000/ (نوہزار روپے قرضہ بھی ہے۔) لہٰذا اب وہ کیا کرے؟ اس غلطی پر اللہ تعالیٰ سے معافی کرتا ہے۔ جبکہ اس پر (کفارہ) وغیرہ بھی ہے؟ ج: کفارہ دینار یا نصف دینار سونا یا اس کی قیمت ادا کرے۔ یاد رہے دینار 1 2 4ماشہ کا ہوتا ہے۔[3] ۲۵ ۸ ؍ ۱۴۲۱ھ س: حالت حیض میں اگر عورت سے جماع کریں ، تو کیا کفارہ ہوگا؟ اور اگر عورت کی حالت حیض ختم ہوجائے اور ابھی غسل نہ کرے تو اس سے جماع جائز ہے۔ وضاحت فرمائیں ؟ [1] بخاری ؍ کتاب الإیمان ؍ باب الحیاء من الایمان [2] ترمذی ، ابواب الدعاء ؍ باب:۱۱۸، ابو داؤد ؍ کتاب الصلاۃ ؍ باب الدعاء ، ابن ماجہ ؍ کتاب الدعاء باب رفع الیدین فی الدعاء [3] ابو داؤد ؍ الطہارۃ ؍ باب اتیان الحائض ، ترمذی ؍ الطہارۃ ؍ باب ما جاء فی الکفارۃ فی ذلک