کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 463
آنے والے کو روکتی نہیں تھی یہ کسبیاں ہوتی تھیں اس طرح کی عورتیں اپنے دروازوں پر جھنڈے لگائے رہتی تھیں جو نشانی سمجھے جاتے تھے جو بھی چاہتا ان کے پاس جاتا۔ اس طرح کی عورت جب حاملہ ہوتی اور بچہ جنتی تو اس کے پاس آنے جانے والے جمع ہوتے اور کسی قیافہ جاننے والے کو بلاتے اور بچہ کا ناک نقشہ جس سے ملتا جلتا ہوتا اس عورت کے اس لڑکے کو اسی کے ساتھ منسوب کردیتے اور وہ بچہ اسی کا بیٹا کہا جاتا۔ اس سے انکار نہیں کرتا تھا۔ پھر جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم حق کے ساتھ رسول ہو کر تشریف لائے تو آپ نے جاہلیت کے تمام نکاحوں کو باطل قرار دے دیا۔ صرف اس نکاح کو باقی رکھا ، جس کا آج کل رواج ہے۔] [1] ۷ ؍ ۲ ؍ ۱۴۲۳ھ س: ایک والد ہے اس نے برادری کے اکٹھ میں یہ کہا کہ میں نے اپنی بیٹی کا رشتہ فلاں شخص کو دے دیا ہے۔ اب یہ بیٹی اور اس کا ہونے والا خاوند دونوں اپنے اس نکاح پر راضی ہوں ، لیکن وہ باپ کسی وجہ سے لڑکے والوں سے ناراض ہوجاتا ہے اور کہتا ہے میں نے رشتہ نہیں دینا۔ اب لڑکی اس لڑکے کے پاس آجاتی ہے اور وہ کورٹ میں جاکر نکاح کرلیتے ہیں ۔ (قاری عبدالصمد بلوچ) ج: نکاح کے صحیح و درست ہونے کے لیے ولی اور لڑکی دونوں کا راضی ہونا اور اجازت دینا بھی ضروری ہے، ولی راضی ہوکر اجازت نہیں دیتا یا لڑکی راضی ہوکر اجازت نہیں دیتی یا دونوں ہی راضی ہوکر اجازت نہیں دیتے ان تینوں صورتوں میں نکاح صحیح و درست نہیں ۔ ولی اور لڑکی کی رضا و اجازت والی احادیث کسی بھی حدیث کی کتاب کی کتاب النکاح میں دیکھ سکتے ہیں ۔ واللہ اعلم۔ [’’ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبردی کہ زمانہ جاہلیت میں نکاح چار طرح ہوتے تھے۔ ایک صورت تو یہی تھی جیسے آج کل لوگ کرتے ہیں ۔ ایک شخص دوسرے شخص کے پاس اس کی زیر پرورش لڑکی یا اس کی بیٹی کے نکاح کا پیغام بھیجتا اور اس کا مہر دے کر اس سے نکاح کرتا۔ دوسرا نکاح یہ تھا کہ کوئی اپنی بیوی سے جب وہ حیض سے پاک ہوجاتی تو کہتا تو فلاں شخص کے پاس چلی جا اور اس سے منہ کالا کرالے۔ اس مدت میں شوہر اس سے جدا رہتا اور اس کو چھوتا بھی نہیں ۔ پھر جب اس غیر مرد سے اس کا حمل ظاہر ہوجاتا۔ جس سے وہ عارضی طور پر صحبت کرتی رہتی تو حمل کے ظاہر ہونے کے بعد اس کا شوہر اگر چاہتا تو اس سے صحبت کرتا۔ ایسا اس لیے کرتے تھے، تاکہ ان کا لڑکا شریف اور عمدہ پیدا ہو یہ نکاح استبضاع’’ نکاح ‘‘ کہلاتا تھا۔ تیسری قسم نکاح کی یہ تھی کہ چند آدمی جو تعداد میں دس سے کم ہوتے کسی ایک عورت کے پاس آنا جانا رکھتے اور اس سے صحبت کرتے۔ پھر جب وہ عورت حاملہ ہوتی اور بچہ جنتی تو وضع [1] بخاری ؍ کتاب النکاح ؍ باب من قال لا نکاح الا بولی