کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 461
نہیں ، کیونکہ سیّد زادی کا نکاح مسلم کے ساتھ درست ہے ، خواہ وہ غیر سید ہی ہو۔ بلکہ یہ نکاح اس بناء پر نہیں کہ ولی کے بغیر ہوا اور اگر نکاح سے پہلے یہ جوڑا آپس میں زنا کا ارتکاب کرچکا ہے تو یہ نکاح ناجائز ہونے کی دوسری وجہ ہوگی۔ ایک ولی کے بغیر ہونے والی وجہ موجود ہے ۔ اس جوڑے کے درمیان جدائی ضروری ہے اور لڑکی کو اس کے والدین کے پاس پہنچاناواجب و فرض اور اس لڑکے کا اس لڑکی کو اپنے پاس رکھنا حرام ہے۔ واللہ اعلم ۔ کیے پر سزا کے مستوجب ہیں [اور یہ بندہ اخلاص کے ساتھ توبہ کرے فیصلہ ولی کے ہاتھ میں ہے۔] ۱۳ ؍ ۳ ؍ ۱۴۲۲ھ س: بندہ ایک لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہے اور بندہ لڑکی سے شادی سے پہلے کافی موقعہ مل چکا ہے اور گھر سے باہر بھی کافی دفعہ جاچکا ہے۔ لڑکے کے والدین کہتے ہیں کہ یہ شادی جائز نہیں ہے۔ آپ سے التماس ہے کہ بتائیں یہ شادی اسلام کی رو سے جائز ہے یا نہیں ؟ ج: صورتِ مسؤلہ بالا میں اگر لڑکی اور لڑکا زنا کرچکے ہیں تو دونوں کا آپس میں باہمی نکاح درست نہیں اور نہ ہی ان دونوں میں سے کسی کا کسی دوسرے یا دوسری کے ساتھ نکاح درست ہے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں فرمایا ہے: ﴿وَأُحِلَّ لَکُمْ مَّا وَرَآئَ ذٰلِکُمْ أَنْ تَبْتَغُوْا بِأَمْوَالِکُمْ مُّحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسَافِحِیْنَط﴾ [النساء:۲۴][’’اور ان عورتوں کے سوا اور عورتیں تمہارے لیے حلال کی گئی ہیں کہ اپنے مال کے مہر سے تم ان سے نکاح کرنا چاہو برے کام سے بچنے کے لیے نہ کہ شہوت رانی کے لیے۔‘‘] نیز اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں فرمایاہے: ﴿اَلْیَوْمَ أُحِلَّ لَکُمُ الطَّیِّبَاتُ ….....وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ ط﴾ [المائدۃ:۵] [’’پاک دامن عورتیں ایمان والیوں سے۔‘‘] تو مندرجہ بالا آیات کریمات سے ثابت ہوا نکاح کے حلال و درست ہونے کے لیے لڑکے اور لڑکی دونوں کا پاکدامن غیر زانی ہونا ضروری ہے ، دونوں پاک دامن نہیں زانی ہیں یا ایک پاک دامن نہیں زانی ہے تو ان تینوں صورتوں میں نکاح حلال و درست نہیں ۔ حرام اور ناجائز ہے۔ واللہ اعلم۔ ۳ ؍ ۷ ؍ ۱۴۲۳ھ س: حدیث میں آتا ہے کہ ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔ [صحیح سنن ترمذی ؍ للألبانی الجزء الاول ، ح:۸۷۹] کیا یہ شرط صرف عورت کے لیے ہے یا عورت مرد دونوں کے لیے؟ (محمد امجد ، آزاد کشمیر) ج: نکاح کے لیے ولی کے اذن و رضا کی شرط صرف عورت کے لیے ہے البتہ والدین کے حقوق ساری اولاد کے ذمہ ہیں وہ مرد ہوں خواہ عورت۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَبِالْوَالِدَیْنِ إِحْسَانًا ط﴾ [بنی اسرائیل: ۲۳]