کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 455
سالم غلام تھے، مگر ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بھتیجی کا جو شرفائے قریش میں سے تھیں ، ان سے نکاح کردیا تو معلوم ہوا کہ کفایت میں صرف دین کا لحاظ کافی ہے۔ ’’ ضباعہ رضی اللہ عنہا بنت زبیر قریشی مقداد بن اسود کندی کے نکاح میں تھیں ، جو قریشی نہ تھے۔ ‘‘[1] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ عورت سے نکاح چار چیزوں کی بنیاد پر کیا جاتا ہے ، اس کے مال کی وجہ سے اور اس کے خاندانی شرف کی وجہ سے اور اس کی خوبصورتی کی وجہ سے اور اس کے دین کی وجہ سے اور تو دیندار عورت سے نکاح کرکے کامیابی حاصل کر، اگر ایسا نہ کرے گا ، تو تیرے ہاتھوں کو مٹی لگے گی۔ (یعنی اخیر میں تجھ کو ندامت ہوگی۔) ‘‘][2] س: عمران کی دو شادیاں ہوئیں ۔ عمران کی پہلی بیوی سے ایک لڑکی اس کا نام شازیہ ہے ۔ عمران کی دوسری بیوی سے ایک لڑکی اس کا نام مریم ہے۔ پھر شازیہ کی شادی ہوگئی۔ اس سے ایک لڑکا اکرم پیدا ہوا۔ کیا اکرم اور مریم کی شادی ہوسکتی ہے؟ (ڈاکٹر اشفاق احمد ، جھبراں ) ج: صورتِ مسؤلہ میں مریم اکرم کی علاتی خالہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَخَالَاتُکُمْ ط﴾ [النساء:۴؍۲۳] ’’تمہاری خالائیں تم پر حرام ہیں ۔‘‘ یہ لفظ خالات عام ہے، خالہ عینی، علاتی اور اخیافی تینوں کو شامل ہے۔ لہٰذا اکرم کا مریم کے ساتھ نکاح ناجائز ہے۔ واللہ اعلم۔ ۲۰ ؍ ۱۱ ؍ ۱۴۲۱ھ س: میری سسرال والوں سے میری بیوی کے سوا اور کوئی رشتہ داری نہیں ہے۔ صرف وہ میرے سسرال ہیں ۔ میں اپنی بیوی کی موجودگی میں اپنے سالے کی بیٹی (لڑکی) سے نکاح کرنا چاہتا ہوں ، جب کہ میری بیوی بھی گھر میں موجود ہے۔ اور میری موجودہ بیوی اور اس لڑکی میں آپس میں خون کا رشتہ ہے۔ یعنی: ’’ وہ دونوں آپس میں پھوپھی اور بھتیجی ہیں ۔‘‘ ج: ایک آدمی کا بیک وقت پھوپھی اور بھتیجی کو نکاح میں جمع کرنا شرعاً ناجائز اور حرام ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ﴿لَا یُجْمَعُ بَیْنَ الْمَرْأَۃِ وَعَمَّتِھَا ، وَلَا بَیْنَ الْمَرْأَۃِ وَخَالَتِھَا ط﴾ [ ’’ نہ جمع کیا جائے عورت اور اس کی پھوپھی کو اور نہ عورت اور اس کی خالہ کو۔‘‘][3] لہٰذا آپ کا یہ پروگرام درست نہیں ،اس لیے آپ اسے فوراً ترک کردیں اور توبہ کریں ۔ واللہ اعلم۔ [1] بخاری ؍ کتاب النکاح ؍ باب الاکفاء فی الدین [2] بخاری ؍ کتاب النکاح ؍ باب الاکفاء فی الدین [3] صحیح بخاری ؍ کتاب النکاح:۲؍۷۶۶