کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 453
س: 1۔ اہل کتاب عورت سے مسلم مرد نکاح کرسکتاہے؟ 2۔آج کل کے یہود و نصاریٰ اہل کتاب میں شامل ہیں ؟ 3۔موجودہ دور کے اہل کتاب تو شرک کرتے ہیں اور مشرکات سے نکاح حرام ہے؟ (محمد صارم بن سیف اللہ) ج: !اہل کتاب عورت سے مسلم مرد نکاح کرسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الَّذِیْنَ أُوْتُوا الْکِتَابَ مِنْ قَبْلِکُمْ إِذَا اٰتَیْتُمُوْھُنَّ أُجُوْرَھُنَّ مُحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسَافِحِیْنَ وَلَا مُتَّخِذِیْ أَخْدَانٍ ط﴾ الآیۃ۔ [المائدۃ:۵] [ ’’ اور وہ پاکدامن عورتیں بھی تمہارے لیے حلال ہیں جو اہل ایمان کے گروہ سے ہیں یا ان قوموں میں سے ہیں ، جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی، بشرطیکہ تم ان کے مہر ادا کرکے ان کے محافظ بنو نہ یہ کہ آزاد شہوت رانی کرنے لگو یا چوری چھپے آشنائیاں کرو اور جس کسی نے ایمان کی روش پر چلنے سے انکار کیا اس کے سارے اعمال ضائع ہوجائیں گے اور وہ آخرت میں نقصان پانے والوں سے ہوگا۔‘‘ ] 2۔ہاں ! شامل ہیں ۔ 3۔صرف آج کل کے اہل کتاب ہی مشرک نہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کے اہل کتاب بھی مشرک تھے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿اِتَّخَذُوْا أَحْبَارَھُمْ وَرُھْبَانَھُمْ أَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ ا للّٰه وَالْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ وَمَآ أُمِرُوْا اِلاَّ لِیَعْبُدُوْٓا إِلٰھًا وَّاحِدًا لَآ إِلٰہَ إِلاَّ ھُوَ سُبْحَانَہٗ عَمَّا یُشْرِکُوْنَ o﴾ [التوبۃ:۳۱] [’’ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے عالموں اور درویشوں کو رب بنالیا ہے اور مریم کے بیٹے مسیح کو حالانکہ انہیں صرف ایک اکیلے اللہ ہی کی عبادت کا حکم دیا گیا تھا، جس کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہ پاک ہے ان کے شریک مقرر کرنے سے۔‘‘] آیت: ﴿وَلَا تَنْکِحُوا الْمُشْرِکَاتِ ط﴾ [البقرۃ:۲۲۱] [’’ تم مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو۔‘‘] سے اہل کتاب کی عورتوں کو سورۂ مائدہ کی مندرجہ بالا آیت نے مستثنیٰ کردیا ہے۔ س: کسی ’’ سیّد ‘‘ لڑکی یا لڑکے کی شادی صرف ’’ سیّد ‘‘ کے ساتھ ہوسکتی ہے یا نہیں اور یعنی آرائیں وغیرہ سے ہوسکتی ہے یا نہیں ؟ (میاں سرفراز اسلم سلفی ، اوکاڑہ) ج: سید لڑکے یا سیّدہ لڑکی کی شادی غیر سید برادری مثلاً آرائیں وغیرہ میں درست ہے، جبکہ اس شادی میں کتاب و سنت کے اندر عائد کردہ تمام شروط موجود ہوں ۔ ام المؤمنین زینب رضی اللہ عنہا پہلے زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں ، قرآنِ مجید میں ہے: ﴿فَلَمَّا قَضٰی زَیْدٌ مِّنْھَا وَطَرًا زَوَّجْنَاکَھَا ط﴾ [الأحزاب:۳۷] [’’ پس جب کہ زید نے اس عورت سے اپنی غرض پوری کرلی، ہم نے اسے تیرے نکاح میں دے دیا۔‘‘ ] زینب رضی اللہ عنہا سیدہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان سے تھیں اور زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ غیر سید تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام تھے۔ اس موضوع پر تفصیل چاہتے ہیں تو ’’ الروضۃ الندیۃ ‘‘سے کتاب النکاح میں کفو