کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 446
۵۔ (( وَعَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ ا للّٰه صلی ا للّٰه علیہ وسلم یَقُوْلُ: وَفْدُ ا للّٰه ثَلاَثَۃٌ اَلْغَازِی وَالحَاجُّ ، وَالْمُعْتَمِرُ))(رواہ النسائی) [’’اللہ کے مہمان تین ہیں ۔ مجاہد.....حج کرنے والا .....اور عمرہ کرنے والا۔‘‘] یہ حدیث بھی عام ہے مقیم اور مسافر دونوں کو شامل ہے، پھر ایک سفر میں ایک عمرہ کرنے والے اور ایک سفر میں زیادہ عمرے کرنے والے دونوں کو متناول ہے، تخصیص کی کوئی دلیل نہیں نہ تو قرآنِ مجید میں اور نہ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت و حدیث میں ۔ امام شوکانی .....رحمہ اللہ تعالیٰ.....حدیث: (( العمرۃ إلی العمرۃ کفارۃ لما بینھما))کی تشریح فرماتے ہوئے لکھتے ہیں : (( وفی الحدیث دلالۃ علی استحباب الاستکثار من الاعتمار خلافا لقول من قال: یکرہ أن یعتمر فی السنۃ أکثر من مرۃ کالمالکیۃ۔ ولمن قال: یکرہ أکثر من مرۃ فی الشہر من غیرھم۔ واستدل للمالکیۃ بأن النبی صلی ا للّٰه علیہ وسلم لم یفعلھا إلا من سنۃ إلی سنۃ ، وأفعالہ علی الوجوب ، أو الندب۔ وتعقب بأن المندوب لا ینحصر فی أفعالہ صلی ا للّٰه علیہ وسلم ، فقد کان یترک الشیء ، وھو یستحب فعلہ لدفع المشقۃ عن أمتہ ، وقد ندب إلی العمرۃ بلفظہ ، فثبت الاستحباب من غیر تقیید ، واتفقوا علی جوازھا فی جمیع الأیام لمن لم یکن متلبسا بالحج إلا مانقل عن الحنفیۃ أنھا تکرہ فی یوم عرفۃ ویوم النحر ، وأیام التشریق۔ وعن الہادی أنھا تکرہ فی أیام التشریق فقط ، وعن الہادویۃ أنھا تکرہ فی أشہر الحج لغیر المتمتع والقارن إذ یشتغل بھا عن الحج۔ ویجاب بأن النبی صلی ا للّٰه علیہ وسلم اعتمر فی عمرہ ثلاث عمر مفردۃ کلھا فی أشہر الحج۔ وسیاتی لہذا مزید بیان فی جواز العمرۃ فی جمیع السنۃ))[نیل الاوطار:۴؍ ۲۸۳ ؍ ۲۸۴] امام شوکانی .....رحمہ اللہ تعالیٰ.....کی یہ تشریح جس طرح پہلی حدیث کی تشریح ہے ، اسی طرح مندرجہ بالا باقی چار حدیثوں کی بھی تشریح ہے۔ منتقی الأخبار میں ہے: (( وعن علی رضی اللّٰه عنہ قال: فی کل شہر عمرۃ۔ (رواہ الشافعی) علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا یہ قول بھی عام ہے ، مقیم و مسافر دونوں کو شامل ہے، آپ اوپر پڑھ آئے ہیں ، ایک ماہ میں ایک عمرہ والی تقیید بھی درست نہیں ۔