کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 445
حَجَّۃً))(متفق علیہ) [1] [’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ بے شک رمضان میں عمرہ کرنا حج کے برابر ہے۔‘‘] یہ حدیث بھی عام ہے مکہ مکرمہ میں مقیموں اور مسافروں دونوں کو شامل ہے۔ پھر متعدد رمضانوں میں متعدد عمروں اور ایک رمضان میں متعدد عمروں کو بھی متناول ہے۔ ان صور متعددہ سے کسی ایک صورت کے ساتھ اس حدیث کو بھی خاص کرنے کی کوئی دلیل نہیں نہ قرآنِ مجید میں اور نہ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت و حدیث میں ۔ ۳۔ (( وَعَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ ا للّٰه صلی ا للّٰه علیہ وسلم : تَابِعُوْا بَیْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَۃِ فَإِنَّھُمَا یَنْفِیَانِ الْفَقْرَ وَالذُّنُوْبٌ کَمَا یَنْفِی الکِیْرُ خَبَثَ الْحَدِیْدِ ، وَالذَّھَبِ ، وَالْفِضَّۃِ وَلَیْسَ لِلْحَجَّۃِ المَبْرُورَۃِ ثَوَابُ إِلاَّ الجَنَّۃَ)) [2] [’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ پے درپے حج اور عمرہ کرو۔ بے شک یہ دونوں فقر اور گناہوں کو اس طرح دور کرتے ہیں ، جس طرح (آگ کی) بھٹی لوہے اور سونے اور چاندی کی میل کچیل کو دور کردیتی ہے۔ حج مقبول کا ثواب صرف جنت ہے۔‘‘ ] یہ حدیث بھی عام ہے مسافروں کو بھی شامل ہے ایک سفر میں متعدد عمروں کو بھی متناول ہے ، اس حدیث کو بھی کسی ایک صورت کے ساتھ خاص کرنے کی کوئی دلیل نہیں نہ قرآنِ مجید میں اور نہ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت و حدیث میں ۔ ۴۔ (( وَعَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! عَلَی النِّسَآئِ جِھَادٌ؟ قَالَ: نَعَمْ عَلَیْھِنَّ جِھَادٌ لاَ قِتَالَ فِیْہِ اَلْحَجُّ وَالْعُمْرَۃُ))(رواہ ابن ماجہ وأحمد) [عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا: ’’ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا عورتوں پر جہاد ہے؟ آپؐ نے فرمایا: ’’ ہاں ! ان پر وہ جہاد ہے جس میں لڑائی نہیں ۔ حج اور عمرہ۔ ‘‘ ] یہ حدیث بھی عام ہے ، پھر اس میں عمرہ کو جہاد کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے اور معلوم ہے کہ ایک سفر میں متعدد غزوات درست ہیں ، جیسے حضر میں .....وقفہ تھوڑا ہو یا زیادہ۔ [1] بخاری ؍ کتاب العمرۃ ؍ باب عمرۃ فی رمضان ، مسلم ؍ کتاب الحج ؍ باب فضل العمرۃ فی رمضان [2] رواہ الترمذی ؍ کتاب الحج ؍ باب ثواب الحج والعمرۃ ، والنسائی ؍ کتاب الحج ؍ باب فضل المتابعۃ بین الحج والعمرۃ۔ ابن ماجہ ؍ کتاب المناسک ؍ باب فضل الحج والعمرۃ