کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 444
کوئی محرم رشتہ دار ہو اور عورت محرم رشتہ دار کے بغیر سفر نہ کرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک آدمی نے سوال کیا۔ اے اللہ کے رسول! میری بیوی حج کے لیے جا رہی ہے اور میرا نام فلاں فلاں غزوے میں لکھا جا چکا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جا تو اپنی بیوی کے ساتھ حج کر۔‘‘][1] ۹ ؍ ۳ ؍ ۱۴۲۴ھ س: کیا ایک سفر میں زیادہ عمرے کرسکتے ہیں ؟ (محمد بشیر الطیب ، کویت) ج: عمر میں بھی اور ایک سفر میں بھی متعدد عمرے کرنا درست ہے، اس سلسلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث ملاحظہ فرمائیں : ۱۔ (( عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ ا للّٰه صلی ا للّٰه علیہ وسلم : اَلْعُمْرَۃُ إِلَی الْعُمْرَۃِ کَفَّارَۃٌ لِمَا بَیْنَھُمَا ، وَالْحَجُّ الْمَبْرُوْرُ لَیْسَ لَہٗ جَزَائٌ إِلاَّ الْجَنَّۃَ۔))(متفق علیہ) [2] [’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ عمرہ ان تمام گناہوں کا کفارہ ہے، جو موجودہ اور گزشتہ عمرہ کے درمیان سرزد ہوئے ہوں اور حج مبرور کا بدلہ تو جنت ہی ہے۔‘‘] یہ حدیث عام ہے مکہ مکرمہ میں مقیموں اور مسافروں دونوں کو شامل ہے ایک مقیم یا مسافر نے عمرہ کیا آٹھ دن یا کم و بیش دن ٹھہر کر اس نے دوسرا عمرہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق اس کے دونوں عمروں کے درمیانہ وقفہ کا کفارہ ہوجائے گا، اس حدیث کو دوسفروں میں دو عمروں کے ساتھ خاص کرنے کی کوئی دلیل نہیں نہ قرآنِ مجید میں اور نہ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت و حدیث میں ۔ باقی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل ’’ ایک سفر میں ایک عمرہ کرنا‘‘ اس حدیث کا مخصص نہیں بن سکتا ورنہ لازم آئے گا، عمر بھر میں چار عمروں سے زیادہ عمرے کرنا درست نہ ہو، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل عمر بھر میں بعد از ہجرت چار عمرے کرنا ہی ہے ۔ نیز لازم آئے گا حج کے سفر میں طواف و داع کے علاوہ چھ طواف سے زیادہ اور عمرے کے سفر میں ایک طواف سے زیادہ طواف کرنا درست نہ ہو، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرہ کے سفروں میں اتنے ہی طواف کیے ہیں اور معلوم ہے کہ دونوں لازم صحیح نہیں ۔ لہٰذا ملزوم بھی صحیح نہیں تو عمر بھر میں چار عمروں سے زیادہ عمرے کرنا درست ہے اور ایک سفر میں ایک سے زیادہ عمرے کرنا بھی درست ہے اور گناہوں کا کفارہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (( اَلْعُمْرَۃُ إِلَی الْعُمْرَۃِ کَفَّارَۃٌ لِمَا بَیْنَھُمَا)) ۲۔ (( وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ ا للّٰه صلی ا للّٰه علیہ وسلم : إِنَّ عُمْرَۃً فِیْ رَمَضَانَ تَعْدِلُ [1] صحیح بخاری؍کتاب النکاح؍باب لا یخلون رجل بامرأۃ الازو محرم۔ صحیح مسلم؍کتاب الحج ؍باب سفر المرأۃ مع محرم الی حج وغیرہ [2] بخاری ؍ کتاب العمرۃ ؍ باب وجوب العمرۃ وفضلھا