کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 442
ہوگا یا نہیں ؟ (محمد شکیل ، فورٹ عباس) ج: اعتکاف فرض نہیں نفل ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف کیا کرتے تھے۔ ۱۲؍ ۱۰ ؍ ۱۴۲۱ھ س: ! ایک آدمی مسجد میں اعتکاف بیٹھا ہے، مسجد کے جس حصے میں اعتکاف کے لیے اس نے خیمہ بنایا ہے، اس خیمے سے باہر مسجد کے صحن میں دھوپ کے لیے زیادہ وقت گزارتا ہے، خیمہ میں تھوڑا وقت گزارتا ہے ، کیا اس طرح کرنا صحیح ہے؟ 2۔مسجدمیں اعتکاف کرنے والا مسجد میں تعمیر کا کام ہورہا ہے کیا اس میں ہاتھ بٹاسکتا ہے؟ 3۔ہمارے ہاں مسجد کا قبلہ درست کرنے کے لیے مسجد کی قبلہ والی دیوار کچھ ترچھی ہے، اس کی پچھلی طرف کچھ جگہ ہے، جہاں کمرہ تعمیر کردیا ہے اور مسجد کی قبلہ والی دیوار میں ایک دروازہ ہے ، جس سے اس کمرہ کو مسجد کے سٹور کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے کیااس کمرہ میں اعتکاف بیٹھ سکتے ہیں ؟ (محمد یونس شاکر) ج: 1۔ اس طرح کرنا صحیح نہیں ۔ اعتکاف کی خاطر خیمے کا آخر مقصد؟ 2۔دو چار منٹ تو کوئی بات نہیں آخر غور فرمائیں اعتکاف کی غرض و غایت تعمیر کا کام ہے یا کوئی اور چیز؟ 3۔اگر وہ کمرہ مسجد کا حکم رکھتا ہے تو اس میں اعتکاف درست ہے ، ورنہ درست نہیں ۔ ۶ ؍ ۱ ؍ ۱۴۲۴ھ س: اعتکاف کے لیے آدمی ایک خیمہ لگاتا ہے اور اس میں ایک یا دو دن اعتکاف کرتا ہے، اس کے بعد کیا وہ اس جگہ سے خیمہ تبدیل کرکے مسجد کے کسی دوسرے خیمہ میں اعتکاف کرسکتا ہے؟ (قاری عبدالصمد بلوچ) ج: اللہ تعالیٰ کے فرمان: ﴿ وَأَنْتُمْ عَاکِفُوْنَ فِی الْمَسٰجِدِ ﴾[البقرۃ:۱۸۳][ ’’ اور تم اعتکاف کرنے والے ہو مساجد میں ۔‘‘ ]سے پتہ چلتا ہے کہ مسجد کے کسی دوسرے خیمہ میں اعتکاف کرسکتا ہے۔ ۲ ؍ ۲ ؍ ۱۴۲۴ھ س: کیا ۱۰ دن سے کم مثلاً 9۔ 7۔ 5۔ 3 وغیرہ کا اعتکاف نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے؟ (محمد امجد ، میر پور) ج: صحیح بخاری میں ہے عمر بن خطاب .....رضی اللہ عنہ .....نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا میں نے مسجد حرام میں ایک رات اعتکاف کرنے کی نذر مانی ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( أَوْفِ بِنَذْرِکَ)) ’’ اپنی نذر پوری کر۔‘‘[1] تو ثابت ہوا دس دن سے کم مدت کا اعتکاف درست ہے۔ ۳؍۱۱؍۱۴۲۰ھ [1] بخاری ؍ کتاب الاعتکاف ؍ باب الاعتکاف لیلاً ، حدیث نمبر: ۲۰۳۲