کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 439
(۱۳) صِیَامُ اَیَّامِ الْبِیْضِ .....ہرماہ کی تیرہ ، چودہ اور پندرہ تاریخ کا روزہ: (( عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رضی اللّٰه عنہ قَالَ: (أَوْصَانِیْ خَلِیْلِیْ صلی ا للّٰه علیہ وسلم بِثَلاَثٍ: صِیَامِ ثَلاَثَۃِ أَیَّامٍ مِنْ کُلِّ شَھْرٍ ، وَرَکْعَتَی الضُّحٰی ، وَأُوْتِرَ قَبْلَ أَنْ أَنَامَ۔)))[1] ’’ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہے فرماتے ہیں کہ (مجھے وصیت کی میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے تین باتوں کی: ہر مہینے میں تین دن کے روزے رکھنے کی۔ اور چاشت کی دو رکعتوں کی اور میں سونے سے پہلے وتر پڑھ لیا کروں ۔) ‘‘ ۱۳ ؍ ۱ ؍ ۱۴۲۴ھ س: ایک حدیث ہے: (( مَنْ قَامَ لَیْلَۃَ الْقَدْرِ اِیْمَانًا وَّ اِحْتِسَابًا غُفِرَلَہٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ۔)) ’’ جس آدمی نے لیلۃ القدر کا قیام کیا ایمان سے اور ثواب کی نیت سے تو اس کے پچھلے گناہ معاف کردیئے جائیں گے۔‘‘ [2] رات کے قیام سے کیا مراد ہے؟ (عبدالغفور شاہدرہ) ج: لیلۃ القدر کے قیام میں صلاۃ اللیل شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قُمِ اللَّیْلَ اِلاَّ قَلِیْلًا﴾’’رات (کے وقت نماز) میں کھڑے ہوجاؤ، مگر کم۔‘‘ (المزمل:۷۳ ؍ ۲)نیز فرمایا: ﴿ اِنَّ رَبَّکَ یَعْلَمُ اَنَّکَ تَقُوْمُ أَدْنٰی مِنْ ثُلُثَیِ اللَّیْلِ وَنِصْفَہٗ وَثُلُثَہٗ وَطَآئِفَۃٌ مِّنَ الَّذِیْنَ مَعَکَ وَاللّٰہُ یُقَدِّرُ اللَّیْلَ وَالنَّھَارَ عَلِمَ اَنْ لَّنْ تُحْصُوْہُ فَتَابَ عَلَیْکُمْ فَاقْرَؤا مَا تَیَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ ط﴾[المزمل:۷۳؍۲] ’’ تیرا رب بخوبی جانتا ہے کہ تو اور تیرے ساتھ کے لوگوں کی ایک جماعت قریب دوتہائی رات کے اور آدھی رات کے اور ایک تہائی رات کے تہجد پڑھتے ہیں اور رات دن کا پورا اندازہ اللہ تعالیٰ کو ہی ہے وہ (خوب) جانتا ہے کہ تم اوقات کا ٹھیک شمار نہیں کرسکوگے، پس اس نے تم پر مہربانی کی ، لہٰذا پڑھو، نماز جس قدر پڑھنا تمہیں آسان ہو۔‘‘ ۱۷ ؍ ۴ ؍ ۱۴۲۲ھ س: اعتکاف کرنے والا ۲۰ رمضان کو غروبِ آفتاب سے پہلے مسجد میں پہنچ جائے اور رات مسجد میں گزارے [1] صحیح بخاری ؍ کتاب الصوم ؍ باب صیام ایام البیض ثلاث عشرۃ واربع عشرۃ وخمس عشرۃ [2] صحیح بخاری ؍ کتاب فضل لیلۃ القدر ؍ باب فضل لیلۃ القدر