کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 438
روزہ۔ آپ آدھی رات تک سوتے، اس کے بعد تہائی رات نماز پڑھنے میں گزارتے۔ پھر رات کے چھٹے حصے میں بھی سوجاتے۔ اسی طرح آپ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کرتے تھے۔‘‘ (۱۱) صِیَامُ الْجُمُعَۃِ لَا وَحْدَہٗ .....جمعہ کے دن روزہ رکھنا، لیکن اکیلا نہ ہو: عَنْ جُوَیْرِیَۃَ بِنْتِ الْحَارِثِ رضی اللّٰه عنہا أَنَّ النَّبِیَّ صلی ا للّٰه علیہ وسلم دَخَلَ عَلَیْھَا یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَھِیَ صَائِمَۃٌ فَقَالَ (اَصُمْتِ أَمْسِ؟) قَالَتْ: لاَ۔ قَالَ: (تُرِیْدِیْنَ أَنْ تَصُوْمِیْنَ غَدًا) قَالَتْ: لاَ۔ قَالَ: (فَأَفْطِرِیْ))) [1] جویریہ بنت الحارث رضی اللہ عنہا سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں جمعہ کے دن تشریف لے گئے، (اتفاق سے) وہ روزہ سے تھیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر دریافت فرمایا: ’’کیا کل کے دن بھی تو نے روزہ رکھا تھا؟ انہوں نے جواب دیا کہ نہیں ۔ پھر آپؐ نے دریافت فرمایا: ’’کیا آئندہ کل روزہ رکھنے کا ارادہ ہے؟‘‘ جواب دیا کہ نہیں ۔ آپؐ نے فرمایا کہ: ’’پھر روزہ توڑ دو۔‘‘ (( عَن عَبْدِ ا للّٰه بْنِ مَسْعُوْدٍ رضی اللّٰه عنہ قَالَ قَلَّمَا رَأَیْتُ رَسُوْلَ ا للّٰه صلی ا للّٰه علیہ وسلم یُفْطِرُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ۔))[2] ’’ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ہے کہتے ہیں کہ کم ہی دیکھا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہ آپؐ جمعہ کو روز ہ چھوڑتے۔‘‘ (۱۲) صِیَامُ رَسُوْلِ ا للّٰه صلی ا للّٰه علیہ وسلم .....رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے: (( عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَاصَامَ النَّبِیُّ صلی ا للّٰه علیہ وسلم شَھْرًا کَامِلاً قَطُّ غَیْرَ رَمَضَانَ وَیَصُومُ حَتّٰی یَقُوْلَ الْقَائِلُ لاَ وَاللّٰہِ لاَ یُفْطِرُ وَیُفْطِرُ حَتّٰی یَقُولَ الْقَائِلُ لاَ وَاللّٰہِ لاَ یَصُوْمُ۔))[3] ’’ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رمضان کے سوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی پورے مہینے کا روزہ نہیں رکھا۔ آپؐ نفل روزہ رکھنے لگے تو دیکھنے والا کہہ اٹھتا کہ بخدا اب آپ بے روزہ نہیں رہیں گے اور اسی طرح جب نفل روزہ چھوڑ دیتے تو کہنے والا کہتا کہ واللہ اب آپ روزہ نہیں رکھیں گے۔‘‘ [1] صحیح بخاری ؍ کتاب الصوم ؍ باب صوم یوم الجمعۃ [2] سنن ابن ماجہ ؍ کتاب الصوم ؍ باب فی صیام یوم الجمعۃ [3] صحیح بخاری ؍ کتاب الصوم ؍ باب ما یذکر من صوم النبی وإفطارہ