کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 436
رَسُوْلاً وَبِبَیْعَتِنَا بَیْعَۃً قَالَ فَسُئِلَ عَنْ صِیَامِ الدَّھْرِ فَقَالَ لاَ صَامَ وَلاَ أَفْطَرَ أَوْ مَا صَامَ وَمَآ أَفْطَرَ قَالَ فُسُئِلَ عَنْ صِیَامِ یَوْمَیْنِ وَإِفْطَارِ یَوْمٍ قَالَ وَمَنْ یُّطِیْقُ ذٰلِکَ قَالَ وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ یَوْمٍ وَإِفْطَارِ یَوْمَیْنِ قَالَ لَیْتَ إِنَّ ا للّٰه قَوَّانَا لِذٰلِکَ قَالَ وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ یَوْمٍ وَإِفْطَارِ یَوْمٍ قَالَ ذَاکَ صَوْمُ أَخِیْ دَاؤدَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ قَالَ وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ الإِثْنَیْنِ قَالَ ذَاکَ یَوْمٌ وُلِدتُّ فِیْہِ وَیَوْمٌ بُعِثْتُ أَوْ أُنْزِلَ عَلَیَّ فِیْہِ قَالَ فَقَالَ صَوْمُ ثَلٰثَۃٍ مِّنْ کُلِّ شَھْرٍ وَرَمَضَانُ إِلٰی رَمَضَانَ صَوْمُ الدَّھْرِ قَالَ وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ یَوْمِ عَرَفَۃَ قَالَ یُکَفِّرُ السَّنَۃَ الْمَاضِیَۃَ وَالْبَاقِیَۃَ قَالَ وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ یَوْمِ عَاشُوْرَآئَ فَقَالَ یُکَفِّرُ السَّنَۃَ الْمَاضِیَۃَ))[1] ’’ ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپؐ سے کسی نے آپ کے روزوں کا پوچھا اور آپ غصہ ہوئے۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا ہم راضی ہوئے ، اللہ تعالیٰ کے معبود ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے پر اور راضی ہوئے ہم اپنی بیعت سے کہ وہی بیعت ہے اور سوال ہوا صیام دھر کا تو آپ نے فرمایا: نہ اس نے روزہ رکھا نہ افطار کیا ، پھر سوال ہوا دو روز روزے اور ایک روز افطار سے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی طاقت کسے ہے؟ پھر سوال ہوا: ایک دن روزہ اور دو دن افطار سے۔ تو آپ نے فرمایا: کاش! اللہ تعالیٰ ہم کو ایسی ہمت دے ۔ اور سوال ہوا ایک دن افطار اور ایک دن روزہ سے۔ تو فرمایا: یہ میرے بھائی داؤد علیہ السلام کا روزہ ہے۔ اور سوال ہوا سوموار کے روزے کا تو فرمایا: میں اسی دن پیدا ہوا ہوں اور اسی دن نبی ہوا ہوں ۔ یا فرمایا: اسی دن مجھ پر وحی اتری ہے ۔ اور فرمایا: رمضان کے روزے اور ہر ماہ میں تین روزے یہ صوم الدھر ہے اور عرفہ کے روزے کا سوال ہوا تو فرمایا کہ: ایک سال گزرا ہوا اور ایک آگے آنے والے کا کفارہ ہے اور عاشورے کے روزے کا پوچھا تو فرمایا: ایک سال گزرے ہوئے کا کفارہ ہے۔‘‘ (۷) صِیَامُ الْعَشْرِ مِنْ ذِی الْحَجَّۃِ .....عشرہ ذوالحجہ کے روزے: (( عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی اللّٰه عنہ عَنِ النَّبِیِّ صلی ا للّٰه علیہ وسلم قَالَ مَا الْعَمَلُ فِیْ اَیَّامٍ اَفْضَلَ مِنْھَا فِیْ ھٰذَا الْعَشْرِ قَالُوْا وَلاَ الْجِھَادُ قَالَ وَلاَ الْجِھَادُ اِلاَّ رَجُلٌ خَرَجَ یُخَاطِرُ بِنَفْسِہٖ وَمَالِہٖ فَلَمْ یَرْجِعْ بِشَیْئٍ)) [2] [1] مسلم ؍ کتاب الصیام ؍ باب استحباب صیام ثلثۃ ایام من کل شہر وصوم یوم عرفۃ وعاشوراء والاثنین [2] بخاری ؍ کتاب العیدین ؍ باب فضل العمل فی ایام التشریق ، جامع الترمذی ؍ ابواب الصوم ؍ باب ماجاء فی العمل فی ایام العشر