کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 435
’’ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نفل روزہ رکھنے لگتے تو ہم کہتے کہ اب آپ روزہ رکھنا چھوڑ یں گے ہی نہیں ۔ اور جب روزہ چھوڑ دیتے تو ہم کہتے کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ رکھیں گے ہی نہیں ۔ میں نے رمضان کو چھوڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی پورے مہینے کا روزہ رکھتے نہیں دیکھا اور جتنے روزے آپ شعبان میں رکھتے ، میں نے کسی مہینے میں اس سے زیادہ روزے رکھتے آپ کو نہیں دیکھا۔‘‘ (۳) صِیَامُ عَاشُوْرَائَ .....عاشوراء کے دن کا روزہ: (( عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی اللّٰه عنہما قَالَ قَدِمَ النَّبِیُّ الْمَدِیْنَۃَ فَرَأَی الْیَھُوْدَ تَصُوْمُ یَوْمَ عَاشُوْرَائَ فَقَالَ مَا ھٰذَا قَالُوْا یَوْمٌ صَالِحٌ ھٰذَا یَوْمٌ نَجَّی ا للّٰه بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ مِنْ عَدُوِّھِمِ فَصَامَہٗ مُوْسٰی قَالَ فَاَنَا اَحَقُّ بِمُوْسٰی مِنْکُمْ فَصَامَہٗ وَاَمَرَ بِصِیَامِہِ۔))[1] ’’ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے آپؐ نے یہودیوں کو دیکھا کہ وہ عاشوراء کے دن روزہ رکھتے ہیں ۔ آپؐ نے ان سے اس کا سبب معلوم فرمایا تو انہوں نے کہا کہ یہ ایک اچھا دن ہے۔ اسی دن اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن (فرعون) سے نجات دلائی تھی۔ اس لیے موسیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن روزہ رکھا تھا۔ آپؐ نے فرمایا: ’’ پھر موسیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے (شریک مسرت ہونے میں ) ہم تم سے زیادہ مستحق ہیں ۔‘‘ چنانچہ آپؐ نے اس دن روزہ رکھا۔ اور صحابہ رضی اللہ عنہم کو بھی اس کاحکم دیا۔‘‘ (( عَنْ أَبِیْ قَتَادَۃَ أَنَّ النَّبِیَّ صلی ا للّٰه علیہ وسلم قَالَ صِیَامُ یَوْمِ عَاشُورَائَ أَنِّیْ اَحْتَسِبُ عَلَی ا للّٰه أن یُّکَفِّرَ السَّنَۃَ الَّتِیْ قَبْلَہٗ))[2] ’’ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے ہے کہ بے شک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں امید کرتا ہوں کہ عاشوراء کے دن کے روزے سے اللہ تعالیٰ اس سے پہلے سال کے گناہ معاف کردے گا۔‘‘ (۴) صِیَامُ الْاِثْنَیْنِ ، (۵) صِیَامُ یَوْمِ عَرَفَۃَ ، (۶) صِیَامُ یَوْمٍ وَاِفْطَارُ یَوْمَیْنِ: سوموار اور یوم عرفہ کا روزہ اور ایک دن روزہ رکھنا اور دو دن کا افطار کرنا: (( عَنْ أَبِیْ قَتَادَۃَ اَلْأَنْصَارِیِّ رضی اللّٰه عنہ أَنَّ رَسُوْلَ ا للّٰه صلی ا للّٰه علیہ وسلم سُئِلَ عَنْ صَوْمِہٖ قَالَ فَغَضِبَ رَسُوْلُ ا للّٰه صلی ا للّٰه علیہ وسلم فَقَالَ عُمَرُ رضی اللّٰه عنہ رَضِیْنَا بِاللّٰہِ رَبًّا وَّبِالْاِسْلاَمِ دِیْنًا وَّبِمُحُمَّدٍ [1] صحیح بخاری ؍ کتاب الصوم ؍ باب صیام یوم عاشوراء [2] جامع الترمذی ؍ ابواب الصوم ؍ باب ماجاء فی الحث علی صوم یوم عاشوراء