کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 434
’’ ابو سعید رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا جب عورت حائضہ ہوتی ہے تو نماز اور روزے نہیں چھوڑتی؟ یہی اس کے دین کا نقصان ہے۔‘‘ (۱۴) صِیَامُ الْمَرْأَۃِ بِغَیْرِ اِذْنِ زَوْجِھَا .....خاوند کی اجازت کے بغیر بیوی کا نفلی روزہ رکھنا: (( عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رضی اللّٰه عنہ : أَنَّ رَسُوْلَ ا للّٰه صلی ا للّٰه علیہ وسلم قَالَ: (لاَ یَحِلُّ لِلْمَرْأَۃِ أَنْ تَصُوْمَ وَزَوْجُھَا شَاھِدٌ اِلاَّ بِاِذْنِہٖ ، وَلاَ تَأْذَنُ فِیْ بَیْتِہٖ اِلاَّ بِإِذْنِہٖ۔ وَمَا أَنْفَقَتْ مِن نَّفَقَۃٍ عَنْ غَیْرِ أَمْرِہٖ فَإِنَّہٗ یُؤَدِّی إِلَیْہِ شَطْرُہٗ۔)))[1] ’’ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہے بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (کسی عورت کے لیے حلال نہیں کہ وہ (نفلی) روزہ رکھے اور اس کا خاوند موجود ہو، مگر اس کے حکم سے۔ اور اس کے گھر میں کسی کو داخل نہ ہونے دے، مگر اس کے حکم سے۔ اور جو وہ مال صدقہ کرے اپنے خاوند کے حکم کے بغیر تو بے شک اس کو اس کا نصف ثواب ملے گا۔) ‘‘ اَلصِّیَامُ الْمَنْدُوْبُ .....مستحب روزے (۱) صِیَامُ الْمُحَرَّمِ .....محرم کاروزہ: (( عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رضی اللّٰه عنہ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ ا للّٰه صلی ا للّٰه علیہ وسلم أَفْضَلُ الصِّیَامِ بَعْدَ رَمَضَانَ شَھْرُ ا للّٰه الْمُحَرَّمُ وَ اَفْضَلُ الصَّلوٰۃِ بَعْدَ الْفَرِیْضَۃِ صَلوٰۃُ اللَّیْلِ۔))[2] ’’ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رمضان کے بعد سب سے افضل روزے محرم کے ہیں ، جوکہ اللہ تعالیٰ کا مہینہ ہے اور فرضی نماز کے بعد سب سے افضل نمازِ تہجد کی نماز ہے۔‘‘ (۲) صِیَامُ شَعبَانَ .....شعبان میں روزے رکھنا: (( عَنْ عَائِشَۃَ رضی اللّٰه عنہا قَالَتْ کَانَ رَسُوْلُ ا للّٰه صلی ا للّٰه علیہ وسلم یَصُوْمُ حَتّٰی نَقُوْلَ لاَ یُفْطِرُ وَیُفْطِرُ حَتّٰی نَقُولَ لاَ یَصُومُ فَمَا رَأَیْتُ رَسُوْلَ ا للّٰه صلی ا للّٰه علیہ وسلم اِسْتَکْمَلَ صِیَامَ شَھْرٍ اِلاَّ رَمَضَانَ وَمَا رَأَیْتُہٗ اَکْثَرَ صِیَامًا مِنْہُ فِیْ شَعْبَانَ۔))[3] [1] صحیح بخاری ؍ کتاب النکاح ؍ باب لا تأذن المرأۃ فی بیت زوجہا الاّ بإذنہ [2] صحیح مسلم ؍ کتاب الصوم ؍ باب فضل صوم المحرم [3] بخاری ؍ کتاب الصوم ؍ باب صوم شعبان