کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 431
ہوجائیں گی اور جس نے ہمیشہ روزہ رکھا اس نے تو روزہ ہی نہیں رکھا اور ہر ماہ کے تین دن روزے رکھنا گویا پورے ماہ کاروزہ رکھنا ہے، تو میں نے عرض کیا: ’’ میں اس سے زیادہ طاقت رکھتا ہوں ۔‘‘ تو آپ نے فرمایا: اچھا صوم داؤد رکھا کرو، اور وہ یہ ہے کہ داؤد صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن روزہ رکھتے تھے ، ایک دن افطار کرتے تھے اور پھر بھی جب دشمن کے آگے ہوتے تو کبھی نہ بھاگتے۔‘‘ (۵) صِیَامُ الْجُمُعَۃِ عَلَی الْاِنْفِرَادِ .....صرف جمعہ کے دن روزہ رکھنا: (( عَنْ جُوَیْرِیَۃَ بِنْتِ الْحَارِثِ رضی اللّٰه عنہ اَنَّ النَّبِیَّ صلی ا للّٰه علیہ وسلم دَخَلَ عَلَیْھَا یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَھِیَ صَائِمَۃٌ فَقَالَ أَصُمْتِ اَمسِ قَالَتْ لاَ قَالَ أَتُرِیْدِینَ اَنْ تَصُومِیْ غَدًا قَالَتْ: لاَ۔ قَالَ فَأَفطِرِیْ۔)) [1] ’’ جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا سے روایت ہے جمعہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر تشریف لے گئے تو وہ روزے سے تھیں ۔ آپ نے پوچھا کیا تو نے کل بھی روزہ رکھا تھا؟ انہوں نے عرض کیا: نہیں ۔ آپ نے فرمایا تو کل آئندہ روزہ رکھنا چاہتی ہے؟ انہوں نے عرض کیا نہیں ۔ آپ نے فرمایا: پھر تو روزہ افطار کردے۔‘‘ نوٹ:.....صرف جمعہ کا روزہ رکھنامنع ہے ، اگر ایک دن پہلے یا بعد میں ساتھ ملا لیا جائے تو کوئی حرج نہیں ۔ (۶) صِیَامُ یَوْمِ الشَّکِ …شک کے دن روزہ رکھنا: (( وَقَالَ صِلَۃُ عَنْ عَمَّارٍ مَنْ صَامَ یَومَ الشَّکِّ فَقَدْ عَصٰی اَبَا الْقَاسِمِ صلی ا للّٰه علیہ وسلم )) [2] ’’ اور صلہ نے عمار رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ جس نے شک کے دن روزہ رکھا تو اس نے حضرت ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی۔‘‘ (۷) صِیَامُ الْوِصَالِ .....وصال کے روزے: (یعنی دو یا زیادہ دن کے افطار کیے بغیر تسلسل سے روزے رکھنا۔) (( عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رضی اللّٰه عنہ قَالَ نَھَی النَّبِیُّ صلی ا للّٰه علیہ وسلم عَنِ الْوِصَالِ فِی الصَّوْمِ فَقَالَ لَہٗ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ اِنَّکَ تُوَاصِلُ یَا رَسُوْلَ ا للّٰه قَالَ وَاَیُّکُمْ مِثْلِیْ اِنِّیْ اَبِیْتُ یُطْعِمُنِیْ رَبِّیْ [1] صحیح بخاری ؍ کتاب الصوم ؍ باب صوم یوم الجمعۃ [2] صحیح بخاری ؍ کتاب الصیام ؍ باب قول النبی صلی ا للّٰه علیہ وسلم اذا رأیتم الہلال فصوموا واذا رأیتموہ فافطروا