کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 429
’’کیوں کیا ہوا؟ ‘‘ اس نے عرض کیاکہ میں نے بحالت روزہ اپنی بیوی سے صحبت کرلی ہے۔ آپ نے فرمایا: ’’ کیا تجھے غلام میسر ہے جسے تو آزادکردے؟‘‘ اس نے عرض کیا: ’’ نہیں ۔‘‘آپ نے فرمایا: ’’ کیا تو دو ماہ مسلسل روزے رکھ سکتا ہے؟ ‘‘ اس نے عرض کیا: ’’ نہیں ۔‘‘ آپ نے فرمایا: ’’ کیا تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتا ہے؟ ‘‘ اس نے عرض کیا: ’’ نہیں ۔‘‘ سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ٹھہرا رہا، ہم بھی سب اس طرح بیٹھے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجوروں سے بھرا ہوا ٹوکرا لایا گیا۔ آپ نے فرمایا: ’’ سائل کہا ں ہے؟ ‘‘ اس نے عرض کیا: ’’ میں حاضر ہوں ۔‘‘ آپ نے فرمایا: ’’ یہ لو اور اسے خیرات کردو۔‘‘ اس نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! خیرات تو اس پر کروں جو مجھ سے زیادہ محتاج ہو۔ اللہ کی قسم! مدینہ کے دو طرفہ پتھریلے کناروں میں کوئی گھر میرے گھر سے زیادہ محتاج نہیں ۔‘‘ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اتنا ہنسے کہ آپ کے دانت مبارک کھل گئے۔ پھر آپ نے فرمایا: ’’ اپنے گھر والوں کو ہی کھلادو۔‘‘ [1] (۱۰) صِیَامُ کَفَّارَۃِ الظِّھَارِ .....ظہار کے کفارہ کے روزے: ﴿ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَھْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا ط﴾ [المجادلۃ:۴] ’’ جو شخص نہ پائے اس کے ذمہ دو مہینوں کے لگا تار روزے ہیں اس سے پہلے کہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں ۔‘‘ [ظہار کا مطلب ہے بیوی کو یہ کہہ دینا۔ تو مجھ پر میری ماں کی طرح ہے۔] (۱۱) صِیَامُ کَفَّارَۃِ قَتْلِ الْخَطَأِ.....قتل خطاء کے کفارہ کے روزے: ﴿ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَھْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ تَوْبَۃً مِّنَ ا للّٰه ط﴾ [النساء:۹۲] ’’ پس جو نہ پائے اس کے ذمے دو مہینے کے لگاتار روزے ہیں اللہ تعالیٰ سے بخشوانے کے لیے۔‘‘ (۱۲) صِیَامُ الْوَلِیِّ عَنِ الْمَیِّتِ اِنْ کَانَ عَلَیْہِ .....: ولی کا میت کی طرف سے روزے رکھنا اگر میت پر روزے ہوں : (( عَنْ عَائِشَۃَ رضی اللّٰه عنہا أَنَّ رَسُوْلَ ا للّٰه صلی ا للّٰه علیہ وسلم قَالَ: مَنْ مَاتَ وَعَلَیْہِ صِیَامٌ صَامَ عَنْہُ وَلِیُّہٗ۔))[2] [1] صحیح بخاری ؍ کتاب الصوم ؍ باب اذا جامع فی رمضان و لم یکن لہ شیئٔ فتُصُدقُ علیہ فلیُکفِّر [2] صحیح بخاری ؍ کتاب الصوم ؍ باب من مات وعلیہ صوم