کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 428
(۷) صِیَامُ کَفَّارَۃِ الْاِصْطِیَادِ فِی الْاِحْرَامِ .....احرام میں شکار کرنے کے کفارہ کے روزے: ﴿ یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْتُلُوا الصَّیْدَ وَاَنْتُمْ حُرُمٌ ط وَمَنْ قَتَلَہٗ مِنْکُمْ مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآئٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ یَحْکُمُ بِہٖ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْکُمْ ھَدْیًا م بٰلِغَ الْکَعْبَۃِ اَوْ کَفَّارَۃٌ طَعَامُ مَسٰکِیْنَ اَوْ عَدْلُ ذٰلِکَ صِیَامًا o﴾[المائدۃ:۹۵] ’’ اے ایمان والو! تم حالت احرام میں شکار نہ مارو اور جس نے دیدہ دانستہ شکار مارا تو اس کا بدلہ مویشیوں میں سے اسی شکار کے ہم پلہ جانور ہے، جس کا فیصلہ تم میں سے دو عادل آدمی کریں اور یہ جانور کعبہ میں لے جاکر قربانی کیا جائے یا چند مسکینوں کو کھانا کھلانا یا اس کے برابر روزے رکھنا اس کا کفارہ ہے۔‘‘ [دو معتبر اور منصف مزاج یہ فیصلہ کریں گے کہ کون سا جانور اس شکار کردہ جانور کے بدلہ میں اسی کی جنس سے اور اسی کی قیمت کے برابر ہے۔ یہ جانور کعبہ لے جاکر ذبح کیا جائے گا اور کفارہ دینے والا خود اس سے کچھ نہیں کھا سکتا اور اگر ایسا جانور میسر نہیں آتا تو دو عادل یہ فیصلہ کریں گے کہ شکار کردہ جانور کی قیمت کیا ہے اس قیمت کا غلہ لے کر مسکینوں کو دے۔ نیز یہ فیصلہ بھی انہیں پر منحصر ہوگا کہ اتنے غلہ سے کتنے مسکینوں کو روزہ رکھایا جاسکتا ہے؟ دانستہ شکار کرنے والا کفارہ کے طور پر اتنے ہی روزے بھی رکھے گا۔ یاد رہے کہ محرم کو سمندر کے شکار کی اجازت ہے۔] (۸) صِیَامُ الْقَارِنِ أَوِ الْمُتَمَتِّعِ اِذَا لَمْ یَجِدِ الْھَدْیَ حج قران یا تمتع کرنے والا جب قربانی نہ پائے تو اس کے روزے: ﴿ فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَۃِ اِلَی الْحَجِّ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْھُدْیِ ج فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰثَۃِ اَیَّامٍ فِی الْحَجِّ وَ سَبْعَۃٍ اِذَا رَجَعْتُمْ ط تِلْکَ عَشَرَۃٌ کَامِلَۃٌ ط﴾ [البقرۃ:۱۹۶] ’’ جو شخص عمرے سے لے کر حج تک تمتع کرے پس اسے جو قربانی میسر ہو اسے کر ڈالے۔ جسے طاقت ہی نہ ہو وہ تین روزے تو حج کے دنوں میں رکھ لے اور سات واپسی میں یہ پورے دس ہوگئے۔‘‘ (۹) صِیَامُ کَفَّارَۃِ اِفْطَارِالْعَمَدِ .....جان بوجھ کر روزہ چھوڑنے کے کفارہ کے روزے: ’’ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ایک دفعہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے۔ اتنے میں ایک شخص نے آکر عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں برباد ہوگیا ہوں ۔ آپ نے پوچھا: