کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 427
’’ جس نے اللہ کی اطاعت کی نذر مانی وہ اطاعت کرے اور جس نے نافرمانی کی نذر مانی وہ نافرمانی نہ کرے۔‘‘ (۵) صیام کفارۃ الیمین.....قسم کے کفارہ کے روزے: ﴿ لَا یُؤَاخِذُکُمُ ا للّٰه بِاللَّغْوِ فِیْٓ اَیْمَانِکُمْ وَلٰکِنْ یُّؤَاخِذُکُمْ بِمَا عَقَّدْتُّمُ الْاَیْمَانَ ج فَکَفَّارَتُہٗٓ اِطْعَامُ عَشَرَۃِ مَسٰکِیْنَ مِنْ اَوْسَطِ مَا تُطْعِمُوْنَ اَھْلِیْکُمْ اَوْکِسْوَتُھُمْ اَوْ تَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ ط فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰثَۃِ اَیَّامٍ ط ذٰلِکَ کَفَّارَۃُ اَیْمَانِکُمْ اِذَا حَلَفْتُمْ ط وَاحْفَظُوْٓا اَیْمَانَکُمْ ط کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ ا للّٰه لَکُمْ اٰیٰتِہٖ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ o﴾ [المائدۃ:۸۹] ’’ اللہ تعالیٰ تمہاری قسموں میں لغو قسم پرتم سے مواخذہ نہیں فرماتا، لیکن مواخذہ اس پر فرماتا ہے کہ تم جن قسموں کو مضبوط کردو۔ اس کا کفارہ دس محتاجوں کو کھانا دینا ہے اوسط درجے کا جو اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا ان کو کپڑا دینا یا ایک غلام یا لونڈی آزاد کرنا ہے اور جس کو طاقت نہ ہو تو تین دن کے روزے ہیں یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے ، جبکہ تم قسم کھالو اور اپنی قسموں کا خیال رکھو ، اسی طرح اللہ تعالیٰ تمہارے واسطے اپنے احکام بیان فرماتا ہے، تاکہ تم شکر کرو۔‘‘ (۶) صیام کفارۃ حلق الرأس فی الإحرام.....احرام میں سر منڈانے کے کفارہ کے روزے: ﴿ فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَّرِیْضًا اَوْ بِہٖٓ اَذًی مِّنْ رَّاْسِہٖ فَفِدْیَۃٌ مِّنْ صِیَامٍ اَوْ صَدَقَۃٍ اَوْ نُسُکٍ ج﴾ [البقرۃ:۱۹۶] ’’ تم میں سے جو بیمار ہو یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو (جس کی وجہ سے سرمنڈالے) تو اس پر فدیہ ہے۔ خواہ روزے رکھ لے، خواہ صدقہ دے دے، خواہ قربانی کرے۔‘‘ [کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم حدیبیہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور احرام باندھے ہوئے تھے، لیکن مشرکین نے ہمیں عمرہ سے روک دیا۔ میرے لمبے بال تھے اور جوئیں میرے منہ پر گر رہی تھیں ۔ آپؐ میرے پاس سے گزرے تو فرمایا: کیا سر کی جوئیں تمہیں تکلیف پہنچا رہی ہیں ؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں ! تب یہ آیت نازل ہوئی۔ پھر مجھے فرمایا: ’’ سر منڈاؤ تین روزے رکھو، یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ یا قربانی کرو۔‘‘ ] [1] [1] بخاری ؍ کتاب المغازی ؍ باب غزوۃ حدیبیۃ ، مسلم ؍ کتاب الحج ؍ باب جواز حلق الرأس للمحرم اذا کان بہٖ اذی