کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 425
ج: اگر کسی شرعی عذر کی بناء پر روزے نہیں رکھے، مثلاً مرض یا سفر تو اس کے ولی اس کی طرف سے روزے رکھیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (( مَنْ مَاتَ وَعَلَیْہِ صِیَامٌ صَامَ عَنْہُ وَلِیُّہٗ)) [’’ جو فوت ہوا اور اس پر روزے ہوں تو اس کی طرف سے اس کا ولی روزے رکھے۔‘‘](بخاری ؍ کتاب الصوم)اور اگر اس نے بلاعذر جان بوجھ کر روزے نہیں رکھے تووہ کافر ہے، کیونکہ صیام رمضان اسلام و ایمان کے بنیادی ارکان میں شامل ہے۔ واللہ اعلم۔ بسم ا للّٰه الرحمٰن الرحیم ۱.....الصیام المفروض (۱) صیام رمضان۔ (۲) صیام قضاء رمضان۔(۳) صیام النذر۔ (۴) صیام کفارۃ النذر۔ (۵) صیام کفارۃ الیمین۔ (۶) صیام کفارۃ حلق الرأس فی الإحرام۔ (۷) صیام کفارۃ الاصطیاد فی الإحرام۔ (۸) صیام القارن أو المتمتع إذا لم یجد الہدی۔ (۹) صیام کفارۃ إفطار العمد۔ (۱۰) صیام کفارۃ الظہار۔ (۱۱) صیام کفارۃ قتل الخطأ۔ (۱۲) صیام الولی عن المیت ان کان علیہ۔ ۲.....الصیام الممنوع (۱) صیام یوم عید الفطر۔ (۲) صیام یوم عید الأضحی۔ (۳) صیام أیّام التشریق۔ (۴) صیام الدھر۔ (۵) صیام الجمعۃ علی الانفراد۔ (۶) صیام یوم الشک۔ (۷) صیام الوصال۔ (۸) صیام استقبال رمضان۔ (۹) صیام النذر لغیر اللّٰه سبحانہ وتعالی۔ (۱۰) صیام یوم الإسراء والمعراج۔ (۱۱) صیام النصف من شعبان۔ (۱۲) صیام السبت وحدہ۔ (۱۳) صیام ایام الحیض والنفاس۔ (۱۴) صیام المرأۃ بغیر إذن زوجہا۔ ۳.....الصیام المندوب (۱) صیام المحرم۔ (۲) صیام شعبان۔ (۳) صیام عاشوراء۔ (۴) صیام الإثنین۔