کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 423
س: رمضان المبارک میں ایک آدمی سحری کے قریب اٹھتا ہے اور اس پر غسل ضروری ہے، اگر غسل کرے تو سحری کا وقت ختم ہوجاتا ہے اور اگر سحری کھائے تو کیا وہ بغیر غسل کیے سحری کھاسکتا ہے؟ اس سے ملتا جلتا دوسرا سوال: ایک آدمی اپنی بیوی سے صحبت کرتا ہے۔ صحبت کرنے کے بعد اگر کوئی چیز کھانی ہو یا پانی وغیرہ پینا ہو تو کیا آدمی کچھ کھاپی سکتا ہے یا کہ پہلے وہ وضو کرکے پاک ہوں ، پھر کچھ کھاپی سکتے ہیں ؟ (محمد سلیم بٹ) ج: استنجاء اور وضوء کرکے سحری کھالے ، پھر غسل کرکے نماز پڑھ لے اور اگر وقت وافر ہو تو پہلے غسل کرلے ، پھر سحری کھالے۔ جنبی آدمی غسل کیے بغیر کوئی چیز کھانا پینا چاہے یا سونا چاہے تو استنجاء اور وضوء کرکے کوئی چیز کھاپی سکتا ہے اور سو بھی سکتا ہے، نماز سے پہلے غسل کرلے۔ ۱۳ ؍ ۱۱ ؍ ۱۴۲۳ھ [ابو بکر بن عبدالرحمن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں اور میرے والد عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا میں گواہی دیتی ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احتلام کے سبب سے نہیں ، بلکہ جماع کے سبب سے حالت جنابت میں صبح کرتے اور (غسل کیے بغیر) روزہ رکھتے۔ (بعد میں نمازِ فجر سے پہلے غسل فرماتے۔) پھر ہم (دونوں ) ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور انہوں نے بھی یہی بات کہی۔ [1] عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حالت جنابت میں کھانا یا سونا چاہتے تو پہلے نماز کی طرح کا وضو فرمالیتے۔][2] س: اگر ایک بندے نے روزہ رکھا ہوا ہے تو وہ بھول کر کچھ کھانے پینے لگتا ہے اور دوسرا بندہ اس کو دیکھتا ہے تو کیا وہ اسے یاد کرواسکتا ہے کہ تم روزے سے ہو یہ چیز نہ کھاؤ۔ حالانکہ اس کو اللہ کھلا رہا ہے۔ اگر اللہ چاہے تو اسے یاد آسکتی ہے ۔ دوسرا بندہ یاد کرواسکتا ہے کہ نہیں دلیل سے راہنمائی فرمائیں ؟ جزاکم اللّٰه خیراً (سجاد الرحمن شاکر بن حاجی محمد اکرم، نگری بالا) ج: یاد دلا سکتا ہے ’’ اس کو اللہ کھلا رہا ہے ‘‘ سے آپ نے جو استدلال فرمایا درست نہیں ۔ کیونکہ وہ حالت نسیان میں کھائی چیز کے متعلق ہے، پھر کسی دوسرے کا اسے یاد دلانا اللہ کی مشیت کے منافی نہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (( فَإِذَا نَسِیْتُ فَذَکِّرُوْنِیْ))[3] [’’ پس میں جب بھول جاؤں تو مجھے یاد دلایا کرو۔‘‘ ۹ ؍ ۱ ؍ ۱۴۲۴ھ [1] بخاری ؍ کتاب الصوم ؍ باب اغتسال الصائم [2] مختصر صحیح مسلم للألبانی ، حدیث نمبر: ۱۶۲ [3] بخاری ؍ الصلاۃ ؍ باب التوجہ نحو القبلۃ حیث کان ، مسلم المساجد ؍ باب السہو فی الصلاۃ